ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں میزائل گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مغربی یروشلم پر ہونے والے حملے میں 9 اسرائیلی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے، جس کے بعد سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کیا گیا۔
ایرانی حملے: کویت میں امریکی سفارتخانے کے قریب دھواں، دوحہ، ابو ظہبی اور منامہ میں دھماکوں کی گونج
خلیجی ممالک میں کشیدگی کے دوران کویت میں امریکی سفارتخانے کے قریب دھواں اٹھتے دیکھا گیا ہے۔
خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق جائے وقوعہ پر فائر فائٹرز اور ایمبولینسز بھی پہنچ گئیں۔
کویت میں واقع امریکی سفارتخانے نے اپنی ویب سائٹ پر شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ سفارتخانے کی طرف نہ آئیں، گھروں کی نچلی منزل پر پناہ لیں، کھڑکیوں سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ سفارتخانے نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
اسی دوران بحرین کے دارالحکومت منامہ، قطر کے دارالحکومت دوحہ اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق دوحہ اور دبئی میں متعدد زور دار دھماکوں اور جنگی طیاروں کی پروازوں کی آوازیں سنائی دیں۔
عراق کے خودمختار کرد خطے کے دارالحکومت اربیل میں بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق عراقی فضائی دفاعی نظام نے اربیل انٹرنیشنل ائرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائی کی۔
دریں اثنا کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کویت سٹی کے قریب مینا الاحمدی آئل ریفائنری میں ملبہ گرنے سے دو کارکن معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے فضائی حملے کے سائرن فعال کرنے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ منامہ کو ملانے والا شیخ خلیفہ بن سلمان پل عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
خطے میں جاری حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی سخت اور سنسنی خیز بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا واضح مشن ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا ہے تاکہ وہ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خلیجی ممالک میں نہ صرف فوجی بلکہ غیر فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا، ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں پر حملے کیے اور 100 سے زائد میزائل فائر کیے۔ ان کے مطابق ایران کے ابتدائی حملے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ پیشگی حملہ نہ کرتا تو کہیں زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے کیونکہ اگر ایران کے پاس میزائلوں کے ساتھ ایٹمی طاقت بھی آ گئی تو وہ دنیا کو یرغمال بنا سکتا ہے۔
امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، ایران نے ٹرمپ کی پیشکش مسترد کردی
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں علی لاریجانی نے کہا، ’ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔‘
ان کا بیان امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لاریجانی نے عمانی ثالثوں کے ذریعے امریکا سے جوہری مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی۔









