3

ڈٹ کر کھڑا ہے ایران!

کے اسلامی انقلاب نے ابھی ایران ہتھیایا نہیں تھا کہ تہران اور سینکڑوں دوسرے شہروں کی سڑکیں احتجاجی ہجوم سے لبالب بھری، ایک ہی نعرہ ’مرگ بر امریکا‘ 46سال بیتنے کو، ایرانی فضا آخری خبریں آنے تک اسی جوش و ولولہ سے ’مرگ بر امریکا‘ کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہے۔

28 دسمبر 2025 سے شروع احتجاجی مظاہروں کے اندر جب منظم تشدد عام ہوا تو تشدد کی حوصلہ افزائی اور حمایت میں امریکا نے ایران پر حملے کی دھمکی دی، اگرچہ گیدڑ بھبکیاں، خدشہ اتنا کہ بوجوہ EPSTEIN FILES سے بلیک میل ہوکر صدر ٹرمپ ایران پر حملہ کر ہی نہ دے۔

اسلامی انقلاب شیاطین کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے، پچھلے 46سال میں کونسا حربہ، جو ایران کو تباہ کرنے کیلئے آزمایا نہیں گیا، پچھلے سال 12روزہ جنگ میں امریکا کودا اور B-52 بمبار طیاروں کے ذریعہ ایرانی نیوکلیئر سائٹس پر بمباری کی تو صدر ٹرمپ نے صراحت سے بتایا کہ ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا گیا، سمجھ سے بالاتر کہ جنوری 2026 سے پھر جوہری پروگرام کا قضیہ کہاں سے کھڑا ہو گیا؟

12 جون 2025 کو جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو بقول ٹرمپ ’ایران نے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی‘ ، 12روزہ جنگ کی ذلت ہی کہ اسرائیل ہر صورت امریکی شہباز کو ایرانی ممولے سے لڑوانے پر مصر تھا، نیتن یاہو پچھلے تین ماہ میں درجن بار امریکا گیا اور بالآخر ٹرمپ کو جنگ کیلئے آمادہ کر لیا، جنوری میں فسادات پر اُکسانے والے 800کے قریب اسرائیلی اور CIA کارندے جب گرفتار کیے اور انکو آناً فاناً پھانسی دی جانی تھی۔

صدر ٹرمپ تو لڑائی کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا، دھمکی دی کہ اگر غداروں کو پھانسی دی گئی تو ہم ایران پر بم گرا دیں گے، ایرانی قیادت انتہائی زیرک اور حکمت سے مالامال، پھانسیاں ملتوی کر دیں، ماحول نہ بنا تو پھر سے یورینیم افزودگی کا تنازع اُٹھا دیا ۔

ایران نے کسی نہ کسی طرح امریکاکو مذاکرات پر آمادہ کر لیا، یورینیم کی افزودگی کی ہر حد اور قدغن ماننے کا عندیہ بھی دیا تو نئی شرط لگا دی کہ میزائل پروگرام بند کرو اور خطرناک ہتھیار ہمارے حوالے کرو، ابھی نئی شرائط پر مذاکرات ہو ہی رہے تھے کہ دوران مذاکرات حملہ کر دیا۔

اس سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان جامع ایٹمی ہتھیار نہ بنانے اور اپنی یورینیم افزودگی پلانٹس کے معائنے سخت کرنے کا ایک معاہدہ JCPOA صدر اوباما انتظامیہ کیساتھ جولائی 2015 میں ہوا جبکہ اس معاہدے کے ضامن روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی تھے ، صدر ٹرمپ نے عملداری سے پہلے بغیر کسی وجہ معاہدہ پر خطِ تنسیخ پھیر دیا۔

ایسے وقت جبکہ 1979ء کا انقلاب ابتلا اور آزمائشی دور سے گزر رہا تھا، ملکی ادارے فوج، بیوروکریسی کے نمایاں لوگ ملک چھوڑ کر بھاگ گئےتھے، فوج کا نظام درہم برہم اور بیوروکریسی کا ادارہ زمیں بوس تھا، انقلاب نے ابھی پاؤں نہیں جمائے تھے کہ پابندیاں عائد ہو گئیں، 1980ء سے 1983ء کے درمیان صدر، وزیراعظم، پارلیمان کے 73ممبران، سپریم کورٹ کا چیف جسٹس، سائنسدان، مذہبی اسکالر چن چن کر شہید کیے گئے۔

8سال درجنوں ممالک کی مدد شامل، عراق کو ایران پر حملہ آور رکھا، سازشوں کا لامتناہی سلسلہ آج تک ختم نہ ہوا، 1978ء سے ایران میں احتجاج شروع ہوئے تو باقاعدہ دامے درمے قدمے سخنے ساتھ دیا، امریکا تعلیم کیلئے پہنچا تو ان احتجاجی مظاہروں کا عملی حصہ بنا، خوشی کی انتہا جس اسلامی انقلاب کا خواب پاکستان میں دیکھ رہا تھا ، من و عن ایران میں آچکا تھا ۔

شاہ ایران کیخلاف احتجاجی تحریک ابھی ابتدائی مراحل میں تھی کہ مغربی میڈیا نے مذہبی شیعہ تحریک کا نام دیا، ڈھنڈورا پیٹا تاکہ ایران عالم اسلام سے کٹ جائے، امریکا کے ایماپر، تمام اسلامی ممالک نے ایسے دینی رہنماؤں کی پذیرائی کی، جنہوں نے بڑھ چڑھ کر حکومتی سرپرستی میں ایران کیخلاف فرقہ واریت کو ہوا دی۔

اگرچہ ایرانی انقلاب فرقہ واریت کے تعصب میں کسی حد تک رَنگا تھا، انقلاب کے سَرخیل ، مدارالمہام امام خمینیؒ کا قبلہ سو فیصد درست تھا، اقتدار سنبھالتے ہی تمام اسلامی دنیا کے چیدہ چیدہ دینی رہنما ، مذہبی اسکالر( پاکستان میں مولانا مودودیؒ ) کے پاس خصوصی نمائندے بھیجے ، بلاتفریق رابطے قائم کیے۔

اقتدار سنبھالتے ہی پہلا اعلان اسرائیل کو سرزمین فلسطین سے فارغ کرنا اور فلسطینی تحریک آزادی کی مدد کو فریضہ اقامت دین قرار دیا، ایرانی آئین کا حصہ بنایا ، آزاد فلسطین کی تحریک میں PLO ، الفتح نمایاں ، ایران ایسی ساری تنظیموں کی حمایت میں سینہ سپر ہو گیا، بیت المقدس کی آزادی کیلئے 27 رمضان المبارک کو یوم القدس منانے کا اعلان کیا، تب سے آج تک ایرانی پوری دنیا میں 27 رمضان کو یوم القدس مناتے ہیں ۔

جب 1987ء میں حماس وجود میں آئی ، باوجودیہ کہ اخوان المسلمین کا آف شوٹ تھی ، ایران نے پلک جھپکائے بغیر حماس کو گود لیا جبکہ سُنی حکمران حماس کی حمایت کا سوچ کر ہی سُن ہو چکے تھے،7 اکتوبر 2023ء القسام بریگیڈ کا حملہ ممکن ہی نہ تھا اگر ایران کی شفقت اور سایہ میسر نہ ہوتا، اگر اسرائیل زمانے میں رسوا ہے تو 7 اکتوبر 2023 اسکا نقطہ آغاز تھا، ایران دو ریاستی فارمولے کا نہیں ، صرف فلسطینی ریاست کا داعی ہے اور اسرائیل کو گھس بیٹھیا تصور کرتا ہے۔

28 فروری کو کیے جانیوالےامریکا اسرائیل حملےکا آج 12 واں دن ہے ، ایران نے امریکا اور اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں، ایران کیلئے اپنی بقا کا مسئلہ ، اپنی آزادی اور سالمیت کی ڈٹ کر حفاظت کر رہا ہے، امریکا اور اسرائیل جنگ سے نکلنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ، مگر کوئی راستہ ملنے کو نہیں، ایران اگلے چھ ماہ جنگ کی حکمتِ عملی کیساتھ میدان عمل میں ہے۔

حکمت عملی کا کمال کہ دنیا کی اکانومی آج ایران کے رحم و کرم پر ہے، فقط آبنائے ہرمز چند ماہ بند رکھنی ہے ، دنیا اقتصادی تباہی کے دہانے پر ہوگی، یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا کا ٹرمپ کو جنگ بند کرنے پر اصرار ہے، ایرانی فوج کے ترجمان کاتازہ بیان کہ منگل سے درجنوں ممالک ہمارے پاس امریکا کا جنگ بندی پیغام لیکر آئے، مگر ہمیں جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں۔

ایران کی نئی قیادت نے جنگ بندی کیلئے ممکنہ تین مطالبات رکھے ہیں۔

(1) امریکہ 30 دن کے اندر اپنے سارے فوجی اڈے مع سازو سامان اٹھائے اور خطے سے کوچ کر ے۔

( 2) 60 دن کے اندر ایران پر ہر طرح کی ٹیکنالوجی ٹرانسفرکی پابندیاں ختم کرے ۔

(3) پچھلے 45 سال کی پابندیوں ، ٹارگٹ کلنگ، آپریشنز اور جنگوں سے ایران کا 800 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے ، پورا کیا جائے، اگر یہ تینوں مطالبات پورے نہ ہوئے تو (1) ایران آبنائے ہرمز کو مکمل بند کر دے گا۔

(2) روس اور چین اپنے فوجی اڈے ایرانی سرزمین پر بنائیں گے۔

(3) ایران نیوکلیئر ہتھیار اپنے میزائلوں پر نصب کر دے گا ۔ کر لو جو کرنا ہے ’’ ڈٹ کر کھڑا ہے ایران۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں