57

بھارت دنیا کا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک: کامیابی یا پانی کا بحران؟

اس سال بھارت نے چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ حکومت اور زرعی لابی نے اس کامیابی کو کسانوں کی محنت اور حکومتی اقدامات کا نتیجہ قرار دیا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ کامیابی پانی کی شدید کمی اور ماحولیاتی بحران کی عکاس بھی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پچھلے دس سالوں میں بھارت کی چاول برآمدات دوگنی ہو گئی ہیں اور گزشتہ مالی سال میں یہ 20 ملین ٹن سے زائد رہیں۔ بھارت اب دنیا کی کل چاول برآمدات کا 40 فیصد حصہ فراہم کر رہا ہے، جس سے اسے عالمی تجارت میں اہمیت حاصل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی چاول کی پیداوار غیر مستحکم پانی کے استعمال پر مبنی ہے، جس سے شمالی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ میں پانی کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ ایک دہائی قبل جہاں پانی 30 فٹ کی گہرائی پر دستیاب تھا، وہاں اب بور ویلز 80 سے 200 فٹ تک گہری ہو گئی ہیں، جس سے کسانوں کی پیداوار کی لاگت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کی سبسڈی پالیسیاں، جیسے کم از کم حمایت شدہ قیمت میں اضافہ اور بجلی کی سبسڈی، کسانوں کو زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی طرف مائل کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک کلوگرام چاول پیدا کرنے کے لیے 3,000 سے 4,000 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے، جو عالمی اوسط سے 20 سے 60 فیصد زیادہ ہے۔

ہریانہ حکومت نے 2023 میں کسانوں کو کم پانی والی فصلیں اگانے کے لیے فی ہیکٹر 17,500 روپے کی سبسڈی فراہم کی، تاہم یہ اقدام صرف عارضی تھا اور بڑے پیمانے پر تبدیلی نہیں لاسکا۔ زرعی اقتصادیات کے ماہر اشوک گلاٹی کے مطابق پنجاب حکومت چاول پر فی ہیکٹر 39 ہزار روپے خرچ کرتی ہے، جبکہ کم پانی والی فصلوں پر اسی رقم کا استعمال کسانوں کی آمدنی برقرار رکھتے ہوئے سبسڈی کی لاگت کم کر سکتا ہے۔

پنجاب اور ہریانہ کے کسان تبدیلی کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ حکومت ان کی پیداوار کو کم از کم قیمت پر خریدے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی چاول کی پیداوار اور برآمدات ملکی پانی کے مستقبل اور عالمی مارکیٹ دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف بھارت میں پانی کے ذخائر کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی خوراک کی قیمتوں اور برآمدات پر اثر ڈال سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں