85

نئے اپوزیشن لیڈرز کا تقرر، عمران خان کی اچانک ہدایت پر پارٹی میں حیرت، سوالات کھڑے ہوگئے

پاکستان تحریک انصاف کے اندر اس وقت حیرت کی لہر دوڑ گئی جب جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان نے اچانک قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نئے قائدِ حزبِ اختلاف کے تقرر کی ہدایت جاری کر دی۔

حالانکہ پارٹی کو امید تھی کہ عدالتوں سے عمر ایوب خان اور شبلی فراز کی نااہلی کے مقدمات میں جلد ریلیف مل جائے گا۔

عمران خان کی جانب سے اڈیالہ جیل سے جاری اس اچانک ہدایت میں محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی اور علامہ عباس ناصر کو سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس نے پی ٹی آئی کے اندر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ ایسی کیا جلدی تھی جب پارٹی کی اکثریت سمجھتی تھی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنا ایک مؤثر راستہ ہے۔

الیکشن کمیشن نے مئی 9 کے مقدمات میں سزا کے بعد عمر ایوب اور شبلی فراز کو ان کی نشستوں سے ڈی سیٹ کر دیا تھا، پارٹی کی قانونی ٹیم نے یہ فیصلہ عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے اور سینئر رہنماؤں کے مطابق انہیں “مثبت فیصلے” کی امید تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں