ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے اثرات اب پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایندھن اور خوراک کے لیے ایران پر انحصار کرنے والے علاقوں میں قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ سرحد کی بندش کے باعث ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
بلوچستان کے ایران سے ملحقہ سرحدی اضلاع خصوصاً مکران اور رخشان ڈویژن کے علاقوں گوادر، کیچ، پنجگور، چاغی اور واشک میں ایندھن اور کھانے پینے کی اشیا کا بڑا حصہ ایران سے آتا رہا ہے۔
آل مکران تاجر اتحاد کے صدر اسحاق روشن دشتی نے اردو نیوز کو بتایا کہ سرحدی علاقوں میں خوراک اور ایندھن کا تقریباً 80 فیصد انحصار ایران پر ہے کیونکہ ایرانی سرحد قریب ہے اور وہاں سے آنے والی اشیا پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں کہیں سستی ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے جنگ سے قبل ہی عوامی احتجاج کے بعد کھانے پینے کی اشیا کی برآمد پر 30 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کر دیا تھا جس سے قیمتیں بڑھ گئی تھیں، تاہم جنگ کے بعد صورت حال کہیں زیادہ سنگین ہو گئی ہے۔
اسحاق روشن کے مطابق ’جنگ شروع ہونے کے بعد سرحدی تجارت تقریباً معطل ہو گئی ہے جبکہ ایرانی حکومت نے کھانے پینے کی اشیا کی بیرون ملک ترسیل پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔‘
’اس کے نتیجے میں آٹا، گھی، خوردنی تیل، دودھ، دہی، بسکٹ، کیک، مچھلی، ایل پی جی گیس، پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل تقریباً بند ہو گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ مارکیٹ میں ان اشیا کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور جن تاجروں کے پاس ذخیرہ موجود ہے وہ من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔
’ایرانی آٹا پاکستانی آٹے کے مقابلے میں 30 سے 35 روپے فی کلو سستا تھا۔ اس کا 40 کلو کا تھیلہ 3700 روپے سے 3800 روپے میں ملتا تھا مگر اب دستیاب ہی نہیں۔ لوگ پاکستانی آٹا خریدنے پر مجبور ہیں جو پانچ ہزار روپے فی تھیلہ سے کم میں نہیں مل رہا۔‘
تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورت حال مزید ایک ہفتہ جاری رہی تو سرحدی علاقوں میں خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
2









