2

سوشل میڈیا اور ای میل اکاؤنٹس کی سیکیورٹی متاثر، سائبر فراڈ کا خدشہ بڑھ گیا

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ایک غلط ترتیب دی گئی کلاؤڈ ڈیٹا بیس کے باعث دنیا بھر کے تقریباً 149 ملین صارفین کے سوشل میڈیا اور ای میل اکاؤنٹس سے متعلق حساس معلومات لیک ہو گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ غیر محفوظ ڈیٹا بیس تقریباً 96 گیگا بائٹ ڈیٹا پر مشتمل تھا، جس میں صارفین کے یوزرنیم، پاس ورڈز اور دیگر لاگ ان تفصیلات شامل تھیں۔ اس ڈیٹا میں نہ صرف ای میل اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلکہ مختلف آن لائن سروسز کے اکاؤنٹس کی معلومات بھی موجود تھیں۔

تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ متاثرہ اکاؤنٹس میں کروڑوں ای میل اور سوشل میڈیا صارفین شامل ہیں، جب کہ اس کے علاوہ ویڈیو اسٹریمنگ، ڈیجیٹل کرنسی اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے صارفین کا ڈیٹا بھی اس لیک کا حصہ بنا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ معلومات ایک ایسے خطرناک وائرس کے ذریعے حاصل کی گئیں جو متاثرہ موبائل فون یا کمپیوٹر میں داخل ہو کر صارف کے پاس ورڈز، براؤزر میں محفوظ ڈیٹا اور دیگر حساس معلومات چرا لیتا ہے، جس کے بعد یہ ڈیٹا ہیکرز تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے ڈیٹا لیک کے نتیجے میں صارفین کو اکاؤنٹس کے غلط استعمال، مالی فراڈ، شناخت کی چوری اور جعلی پیغامات بھیجنے جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر ایک ہی پاس ورڈ مختلف اکاؤنٹس کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔

اہم بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق یہ ڈیٹا لیک کسی ایک ادارے یا کمپنی کے سسٹم کو ہیک کرنے کے باعث نہیں ہوا، بلکہ مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کو ایک جگہ جمع کرنے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کریں، ٹو فیکٹر تصدیق فعال کریں اور کسی بھی مشکوک لنک یا فائل پر کلک کرنے سے گریز کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں