حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا، جس کے تحت پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 55-55 روپے بڑھائی گئی ہے، اطلاق رات 12 بجے سے شروع ہوگیا جبکہ اب ہر ہفتے قیمتوں میں ردوبدل ہوگا۔
نائب وزیراعظم نے وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم مصنوعات کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ وزیراعظم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کم سے کم بوجھ ڈالنے کیلیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دی جس کی سربراہی میں کررہا ہوں اور اس حوالے سے ہم ہر روز عالمی مارکیٹ کی قیمتوں پر غور بھی کررہے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ کشیدگی کے حوالے سے ہم مسلسل رابطے میں ہیں، میں وزرائے خارجہ، وزیراعظم سربراہان مملکت اور فیلڈ مارشل فوجی قیادتوں سے رابطے میں ہیں تاکہ مسائل کا حل نکل سکے۔
اس وقت مستحکم پوزیشن میں ہیں، وزیر خزانہ
وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم نے جو کمیٹی تشکیل دی وہ پانچ روز سے کام کررہی ہے ، عالمی سطح پر بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خطیر اضافہ ہورہا ہے اور اس حوالے سے ہماری روزانہ میٹنگ ہورہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری میٹنگ میں پیٹرولیم، اسٹیٹ بینک سمیت دیگر اداروں کے نمائندے بھی ہوتے ہیں، توانائی کا براہ راست تعلق پاکستانی معیشت سے ہے جس کو ہم دیکھ رہے ہیں، کامرس وزیر بھی امپورٹ ایکسپورٹ پر پڑنے والے اثرات کو بھی دیکھ رہے ہیں۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم اس وقت مستحکم پوزیشن میں ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی بھی اچھی تعداد ہے تاہم اگر یہ سلسلہ زیادہ چلا تو صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے، صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت مزید فیصلے بھی کرے گی۔









