وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور صوبائی حکومت کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت اور سوئی ماسٹر پلان سے متعلق اجلاس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا۔اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایم ڈی پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ سکندر علی میمن، سیکرٹری توانائی بلوچستان ،متعلقہ محکموں کے حکام اور سوئی گیس فیلڈ کے منصوبوں سے وابستہ افسران نے شرکت کی۔
ایم ڈی پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے اجلاس کو مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور سوئی ماسٹر پلان سے متعلق اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ دی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبے کے قدرتی وسائل بلوچستان کی امانت ہیں اور ان وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کا براہِ راست اثر صوبے کے عوام خصوصاً اس علاقے کے لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور صوبائی اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے سوئی کے عوام کو روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے منصوبوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ ملے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوئی ماسٹر پلان علاقے کی معاشی خودکفالت کی جانب ایک اہم قدم ہے ،اس منصوبے کے ذریعے مقامی ترقیاتی ڈھانچے، سماجی سہولیات اور توانائی سے وابستہ منصوبوں میں ایک جامع حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے تاکہ ترقی کا عمل دیرپا اور عوام دوست ہو۔
انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مفاہمتی یادداشت کے مجوزہ طے شدہ اہداف پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور سوئی ماسٹر پلان میں عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان حکومت نجی اور سرکاری اداروں کے ساتھ شراکت داری سے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئےپرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی شفاف تقسیم، مقامی نوجوانوں کی تربیت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔









