13

صارفین کو بجلی میں ریلیف، قومی خزانے پر 3400 ارب کا بوجھ کم ہوا

پاور ڈویژن نے سال 2025ء کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آئی پی پیز سے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں صارفین اور قومی خزانے پر 3400 ارب روپے کا بوجھ ختم کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے بجلی 8.35 روپے فی یونٹ، جبکہ صنعتی صارفین کے لیے 16.68 روپے فی یونٹ سستی ہو گئی ہے۔ ناکارہ پاور پلانٹس کی بندش سے صارفین سے 7 ارب روپے کا بوجھ ہٹایا گیا اور صنعتی و زرعی صارفین کے لیے 22.98 روپے کا پیکج متعارف کروایا گیا۔

ساڑھے 9 ہزار میگاواٹ کے بجلی منصوبے ختم کر کے عوام کو 1 روپے فی یونٹ ریلیف فراہم کیا گیا، جبکہ بغیر قرض لیے گردشی قرضے میں 780 روپے کی کمی ممکن ہوئی۔ بجلی بلوں سے پی ٹی وی فیس کی مد میں 35 روپے کی وصولی بھی ختم کروائی گئی۔

سال 2025 میں 3 ڈسکوز کی نجکاری کا آغاز کیا گیا، اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے ٹیرف میں 44 فیصد کمی کی گئی۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی بل معاف کیے گئے اور ادائیگیوں میں رعایت فراہم کی گئی۔ صارفین کو اپنا میٹر ریڈ کرنے کا اختیار اپنی میٹر ریڈنگ ایپ کے ذریعے فراہم کیا گیا۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ 118 ہیلپ لائن کے آغاز سے سفارشی کلچر کا خاتمہ ہوا اور یکساں سلوک ممکن ہوا۔ مسابقتی اور شفاف بولی کے نتیجے میں اسمارٹ میٹرز ریٹس میں 40 فیصد کمی آئی۔ ملک میں 55 فیصد ماحول دوست بجلی کی پیداوار کے باعث پاکستان خطے میں گرین انرجی کا لیڈر بن گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں