شہر میں ہیوی گاڑیوں سے جان لیوا خونی حادثات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، چند گھنٹوں میں ڈمپر کے دو مختلف حادثات میں 2 نوجوان جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سپر ہائی وے پنجاب بس اڈے کے قریب خونی ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار 2 افراد کو روند کر زندگی سے محروم کر دیا جبکہ گلشن حدید میں تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار شدید زخمی ہوا جو بعد میں دم توڑ گیا۔
دونوں حادثات میں ڈمپر ڈرائیور موقع سے فرار ہوگئے تاہم پولیس نے جائے وقوعہ سے ڈمپروں کو اپنے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ سہراب گوٹھ میں ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 30 سالہ کامران اور 20 سالہ امان اللہ ک نام سے کی گئیں۔ ایس ایچ او سچل طفیل بھٹو نے بتایا کہ حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس نے جائے وقوعہ سے ڈمپر کو اپنے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا۔
انھوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد سپر ہائی پر قائم مقامی ہوٹل میں ملازمت کرتے تھے جو کہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ حادثے کا شکار ہوگئے جبکہ ابتدائی طور پر دونوں افراد لیاقت آباد کے رہائشی بتائے جا رہے ہیں تاہم پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کرتے ہوئے فرار ڈرائیور کو سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے۔
گلشن حدید زیتون ریسٹورنٹ کے قریب تیز رفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار کر شدید زخمی کر دیا جسے انتہائی تشویشناک حالت میں چھیپا کے رضا کاروں نے جناح اسپتال پہنچایا جہاں وہ دم توڑ گیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ شدید زخمی موٹر سائیکل سوار کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی جبکہ اس کی عمر 32 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور موقع سے ڈمپر چھوڑ کر فرار ہوگیا جسے پولیس نے اپنے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا اور اس حوالے سے پولیس کی جانب سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔









