ذیابیطس ٹائپ 2 ایک خاموش مگر مہلک بیماری کے طور پر دنیا بھر میں افراد کی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک اہم نشانی دریافت کی ہے جس کا سامنا ہونے پر فوراً بلڈ شوگر ٹیسٹ کرانا چاہیے۔
اسپین کی بارسلونا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں سماعت کی حس متاثر ہو سکتی ہے۔ تحقیق میں 17 رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا، جس میں 3910 ذیابیطس کے مریض اور 4084 صحت مند افراد شامل تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ذیابیطس کے مریضوں میں سماعت کے مسائل کا خطرہ صحت مند افراد کے مقابلے میں 4.19 گنا زیادہ ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ ذیابیطس جتنا زیادہ عرصہ جسم میں موجود رہے گا، سماعت کی خرابی کا خطرہ بھی اتنا زیادہ ہوگا۔ یہ مسئلہ اندرونی کان کے افعال متاثر کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر ہارٹ اٹیک یا فالج کے خطرے کا عندیہ بھی دے سکتا ہے۔
ماہرین نے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ 40 سال سے زائد عمر کے ہیں، انہیں ابتدائی بلڈ شوگر چیک اپ ضرور کرانا چاہیے اور نتیجہ نارمل آنے پر ہر سال اس کو دہرانا چاہیے۔ جسمانی وزن زیادہ ہونے، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی یا امراض قلب کی صورت میں ہر 3 ماہ میں بلڈ شوگر ٹیسٹ کرانا بہتر ہے۔ حاملہ خواتین میں اگر ذیابیطس کی تشخیص ہو تو ہر تین سال اسکریننگ ضروری ہے۔
بلڈ شوگر بڑھنے کی ممکنہ علامات:
زیادہ پیاس لگنا
رات کو زیادہ پیشاب آنا
غیر معمولی وزن میں کمی
جلد پر خارش
زخم دیر سے بھرنا
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت اسکریننگ اور صحت مند طرز زندگی اپنانے سے ذیابیطس کے سنگین اثرات اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔









