بلوچستان ہائی کورٹ میں چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سڑکوں کی تعمیر اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کی، جس میں مختلف اہم شاہراہوں کی پیش رفت، فنڈنگ اور آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شمولیت کے معاملات زیر غور آئے۔
سماعت کے آغاز پر فاضل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں 6 مارچ 2026 کا ایک خط پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہرنائی سے سبی براستہ سپن تنگی روڈ سے متعلق پی سی ون (PC-I) مارچ 2023 میں جمع کرایا گیا تھا جبکہ فروری 2025 میں اسے دوبارہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے 9 اگست 2024 کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے منٹس کی کاپی بھی عدالت میں جمع کراتے ہوئے مقف اختیار کیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے اس منصوبے کے حوالے سے اس وقت کوئی معاملہ زیر التوا نہیں ہے۔
دوسری جانب نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ممبر (ویسٹ زون )بشارت حسین نے عدالت کو زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی روڈ منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق 146.5 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ وفاقی حکومت نے بین الاضلاعی اور بین الصوبائی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیا ہے۔ موجودہ سڑک کی چوڑائی 3.65 سے 4.5 میٹر ہے جسے پی ایس ڈی پی کے تحت این ایچ اے کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کا ابتدائی پی سی ون 2018 میں تقریبا 10 ارب 79 کروڑ روپے کی لاگت سے پیش کیا گیا تھا جسے کم کر کے 8 ارب 37 کروڑ روپے کیا گیا اور 7 مارچ 2018 کو ECNEC نے اس کی منظوری دی۔ بعد ازاں علاقے کی جغرافیائی اور تکنیکی ضروریات، حفاظتی دیواروں اور دیگر تعمیراتی کاموں کے باعث منصوبے کی لاگت اور دائرہ کار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
مزید برآں حکومت بلوچستان کی سفارش اور عدالت کی ہدایات کے مطابق ابتدائی طور پر تجویز کردہ ٹی ایس ٹی فٹ پاتھ کو عوامی مفاد میں اسفالٹ فٹ پاتھ میں تبدیل کیا گیا، جس کے باعث منصوبے کے پی سی ون پر جامع نظرثانی کی گئی۔نظرثانی شدہ پی سی ون پلاننگ کمیشن کی نگرانی میں لاگت کے تفصیلی جائزے کے بعد 17 ارب 49 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا۔
منصوبے کی انتظامی منظوری 5 جنوری 2026 کو جاری کی گئی جبکہ 2025-26 کے پی ایس ڈی پی میں اس کے لیے 200 ملین روپے بطور ٹوکن رقم مختص کی گئی ہے تاکہ منصوبہ ترقیاتی پروگرام میں برقرار رہے۔این ایچ اے نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ منصوبے کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل جون 2026 سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا جبکہ تعمیراتی کام اگلے مالی سال 2026-27 کے آغاز پر فنڈز کی دستیابی کے ساتھ شروع کیا جائے گا۔
این ایچ اے کے مطابق موجودہ مالی سال میں بلوچستان میں چند ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جو تکمیل کے قریب ہیں، جن میں جھل جھا۔بیلا روڈ، بیلہ۔آواران روڈ، ہوشاب۔آواران روڈ، آواران۔نال روڈ، کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس اور نوکنڈی۔ماشکیل روڈ شامل ہیں۔ ادارے کا مقف تھا کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ کم سے کم وقت میں عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مقف اختیار کیا کہ اگر 31 مارچ 2026 تک منصوبے کو اگلے مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی میں شامل نہ کیا گیا تو بعد میں اسے شامل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم این ایچ اے کے ممبر (ویسٹ زون) نے اس مقف کی سختی سے تردید کرتے ہوئے عدالت کو یقین دلایا کہ زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی اور زیارت موڑ منصوبوں سے متعلق تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں گے اور انہیں آئندہ پی ایس ڈی پی میں شامل کرایا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سبی۔ہرنائی روڈ سے متعلق محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے جمع کرایا گیا پی سی ون پلاننگ کمیشن نے سی ڈی ڈبلیو پی کی سفارش پر واپس کر دیا تھا اور این ایچ اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ شیئرنگ فارمولے کے مطابق نیا پی سی ون دوبارہ جمع کرایا جائے، جس کے بعد اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔عدالت نے ہدایت کی کہ این ایچ اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ممبر (ویسٹ زون) عدالت کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈویلپمنٹ حکومت بلوچستان کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ پلاننگ کمیشن اور این ایچ اے کے حکام سے رابطہ رکھ کر پی سی ون کی بروقت منظوری اور منصوبوں کو مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی میں شامل کرانے کو یقینی بنائیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ ممبر (ویسٹ زون) این ایچ اے کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی جب تک عدالت کی جانب سے دوبارہ طلب نہ کیا جائے۔ حکم کی نقل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ متعلقہ حکام تک احکامات پہنچائے جا سکیں۔عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کو حکم دیا کہ وہ احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں بصورت دیگر وضاحت کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوگا۔ کیس کی مزید سماعت 9 اپریل 2026 کو ہوگی









