بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے صوبے بھر میں ناقص اور مضر صحت اشیاء خوردونوش کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں پنجگور، کوئٹہ اور لورالائی میں معائنوں کے دوران مجموعی طور پر 17 کھانے پینے کے مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ایک غیر قانونی آئسکریم پروسیسنگ یونٹ کو سیل کردیا گیا۔
سریاب میں کارروائی کے دوران مضر صحت آئسکریم اور آئس لولیز تیار کرنے والے یونٹ کا انکشاف ہوا جہاں ناقص اور غیر معیاری اجزاء سے تیار کردہ آئسکریم اور آئس لولیز کی بڑی مقدار موقع پر ہی تلف کر دی گئی۔ حکام کے مطابق یونٹ میں پروڈکشن کے دوران غیر معیاری اور مضر رنگوں کے استعمال، مس لیبلنگ، غیر رجسٹرڈ مصنوعات کی تیاری اور دیگر خلاف ورزیوں پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
مزید برآں مذکورہ یونٹ بغیر رجسٹریشن اور لائسنس کے خوراکی اشیاء تیار کر کے مارکیٹ میں سپلائی کر رہا تھا جبکہ تیار شدہ مصنوعات کی لیبارٹری رپورٹس بھی موجود نہیں تھیں۔ اتھارٹی حکام نے کارروائی کے دوران برآمد ہونے والا پیکجنگ میٹریل اور مضر رنگ ضبط کرتے ہوئے یونٹ کو فوری طور پر سیل کردیا۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ خوراک کی تیاری میں جعلسازی، ملاوٹ یا غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی چھوٹے یا بڑے تمام فوڈ بزنسز پر بلا امتیاز قوانین کا یکساں نفاذ یقینی بنا رہی ہے۔ڈی جی بی ایف اے کے مطابق غیر معیاری اور مضر صحت آئسکریم اور آئس لولیز خصوصاً بچوں میں گلے کے امراض، انفیکشن اور دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور معصوم بچوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ غیر معیاری خوراک کی فروخت کی صورت میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو آگاہ کریں تاکہ ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکی









