81

ًلیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے بعد اس کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے بعد اس کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو 10 ارب روپے فراہم کرے گی۔ انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ایس او ڈبلیو، سی ٹی ڈی ،آر آر جی سمیت دیگر اداروں کے لوگوں پر مشتمل ایک یونٹ بنارہے ہیں۔

پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کو نکال باہر کیا جائے دہشت گرد از سرنو منظم ہورہے ہیں ریاست سب کا مشترکہ گھر ہے۔ یوتھ منفی پروپیگنڈہ کی وجہ سے ناراض ہے تشدد کو ابھارنے والے جان لیں اس لڑائی سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔ 500 دہشت گرد اب تک مارے جاچکے ہیں ناکامی ان کا مقدر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ کے دورے کے موقع پر آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر دیگر پولیس آفیسران بھی موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں بی ایریا کو اے ایریا میں تبدیل کیا جارہا ہے یہ ایک معروف فیصلہ نہیں ہے البتہ وقت ثابت کریگاکہ یہ درست فیصلہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ لیویز کا ایک بار پہلے بھی انضمام کیا گیا جس کے بعد نصیر آباد، لسبیلہ میں پولیس کا نظام ہی قائم رہا اس سے وہاں امن وامان کی صورتحال بہتر رہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی ایک نظام ہو ۔

انہوں نے کہا کہ بھاگ میں دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے والے پولیس کے ایس ایچ او کے لیے شجاعت اور بہادری کے اعلی اعزازات کی سفارش کی ہے جبکہ زخمی پولیس اہلکار کو بہتر علاج کے لیے سکھر اور اب کراچی منتقل کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بلوچستان میں پولیس کی استعداد کار ، انٹیلی جنس ، پولسنگ، اینٹی رائیٹس فورس کے لیے 10ار ب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے پولیس کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت، نائٹ ویژن ، ڈرون سمیت دیگر سہولیات مہیا کی جائیں جبکہ ایس او ڈبلیو، سی ٹی ڈی ،آر آر جی سمیت دیگر اداروں کے لوگوں پر مشتمل انسداد ہشتگردی کے لیے ایک یونٹ بنا رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ شہداکے لیے پیکج کو بہتر بنایا جارہا ہے اب شہداکے بچوں کو حکومت 16سال تک مفت تعلیم فراہم کریگی ، صوبے میں اے ایس آئی کی اسامیوں کی کابینہ سے منظوری لیکر پبلک سروس کمیشن کے بجائے براہ راست میرٹ پر بھرتی کیا جائے گا تاکہ افسران کی کمی کو پورا کیا جاسکے اس عمل کو پی ایم اے کی طرز پر بنانے کے لیے آئی جی پولیس کوتجاویز مرتب کرنے کے لیے ہدایت کردی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کو مکمل طور پر غیر سیاسی کیا جائے گا پولیس میں کوئی سیاسی اثر ورسوخ نہیں ہوگا آئی جی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ پولیس سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کریں ساتھ ہی پولیس کو عوام کو امن فراہم کرنے کا ٹاسک دیا ہے کوئٹہ میں منشیات کے خلاف سخت ترین آپریشن کرنے جارہے ہیں ہم نوجوانوں کو نشے کی لت سے بچائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلوں کے نتائج آنے میں وقت ضرور لگے گا اس سے دیر پا امن قائم ہوگا بلوچستان میں لیویز فورسز نے قربانیاں دی ہیں لیویز کے اہلکاروں کا مورال بلند کرنے کے لیے انہیں پولیس میں شامل کیا جارہا ہے 50سال سے اوپر کے لیویز اہلکاروں کے لیے گولڈن ہینڈ شیک پالیسی لانے کی بھی تجویز زیر غور ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کا مورال تب بلند ہوتا ہے جب ان کے افسران سامنے سے قیادت کرتے ہیں اب آئی جی سے لیکر ایس ایچ او تک فرنٹ سے لیڈکریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز گرے ایریا میں کام کر رہی ہیں ماڈل ٹائون دھماکے میں آئی جی ایف سی کے اہلخانہ بھی زخمی ہوئے دھماکے سے متاثرہ دیوار بنانے کا کام مکمل ہونے کے بعد سڑک کو کھول دیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی بڑھنے کے پیچھے متعد د وجوہات اور عوامل کار فرما ہیں 2018سے 2023تک جب دہشتگردوں کی آبادکاری ہوئی ا س سے انہیں دوبارہ پنپنے کا موقع ملا، امریکہ کے افغانستان سے انخلاکے بعد دہشتگردوں کو جدید اسلحہ ملا ہے کیا اسی کوئٹہ شہر میں 2009میں بی ایل اے نے جلسہ نہیں کیا تھا انہوں نے کہا کہ دہشتگرد 5منٹ کے لیے ٹک ٹاک بنانے کے لیے سڑکوں پر آتے اور پھر فرار ہوجاتے ہیں بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں جن میں 4سے 5دہشتگر ہر روز ہلاک ہورہے ہیں اس سال 500خطرناک دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں ۔

وزیراعلی نے کہا کہ پہلے یہ تصور تھا کہ یہ جنگ پاکستا ن کی افواج اور نام نہاد دہشتگردوں کے درمیان ہے ہم نے یہ کہاکہ ریاست ہماری بھی ہے ہم اس جنگ کو لڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان بفر زون ہے جہاں مسلسل حالات خراب ہیں لیکن دہشتگرد بلوچ قوم کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رہے ہیں میں وثوق سے کہتا ہوں کہ ناکامی دہشتگردوں کا مقدر ہے انہیں تشدد سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل اے اور بشیر زیب نے مخبری کے نام پر سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں سے زیادہ بلوچ مارے ہیں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ محدود رہے گی تو وہ لوگ اور ٹوئٹر سردار سن لیں کہ یہ دہشتگردی ان کے گھر تک بھی آئیگی تشدد کے خلاف پورے معاشرے کو کھڑا ہونا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ سبی میں کچھ روز قبل دہشتگردوں نے ہتھیار ڈالے ہیں جو لوگ ریاست کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں ۔

وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 16ہزار اساتذہ بھرتی ،3200سکول فعال کیے ہیں 14اگست کے بعد صوبے میں کوئی بھی اسکول بند نہیں ہوگا جو نوجوان ابتر حکمرانی کی وجہ سے متنفر ہوئے ہیں ہم اپنی گورننس بہتر بنا کر اپنے قریب کریں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ بلوچستان میں پاور شیئر نگ فارمولے کی باتیں مسلم لیگ(ن)کے صوبائی رہنمائوں سے سن رہا ہوں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے مجھے ایسے کسی معاہدے کے بارے میں نہیں بتایا یہ اہم معاملہ نہیں ہے ہمیں مزید چیلنجز درپیش ہیں اقتدار آنی جانی چیز ہے میں آخر ی رن تک کام کرتا رہوںگا اور مایوس نہیں ہونگا ۔

انہوں نے کہا کہ میرے لیے تمام لوگ قابل احترام ہیں سب کو اپنی سیاست اور بات کرنے کا حق حاصل ہے لیکن میں کسی کے بیانات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا جس نے جو سوچنا ہے سوچتا رہے ۔ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ حکومت کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کروانے پر سوچ بچار کر رہی ہے میں بلدیاتی نظام کا حامی ہوں مگر ہم ایک مخلوط حکومت ہے ایک رائے یہ بھی ہے کہ کوئٹہ میں اس وقت امن و امان کی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ مکمل سیکورٹی میں انتخابات کروائے جائیں لہذا سیکورٹی صورتحال بہتر بنا کر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو۔

انہوں نے کہا حکومت اس حوالے سے مشاورت سے فیصلہ کریگی ۔وزیراعلی نے کہا کہ چلتن میں آپریشن کے دوران سیاحوں کے زخمی ہونے کے معاملے کا مجھے علم نہیں ہے اس پر معلومات حاصل کرونگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں