47

بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی حاضری سے متعلق سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری

بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی حاضری سے متعلق سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی مسلم لیگ (ن) کے حاجی ولی محمد نورزئی اور پیپلز پارٹی کے حاجی علی مدد جتک کی 98اور 96فیصد اجلاسوں میں حاضری، وزیراعلیٰ 78 جبکہ اپوزیشن لیڈر 75فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے ،بلوچستان اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال فروری2025تا فروری 2026تک کی ’’این این آئی‘‘ کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی سیکرٹری حاجی ولی محمد نورزئی نے نے سب سے زیادہ 98 فیصد حاضری کے ساتھ 50 اجلاسوں میں شرکت کی۔

اسی طرح صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے 96 فیصد حاضری کے ساتھ 49 اجلاسوں میں شرکت کی جبکہ پارلیمانی سیکرٹری محمد خان لہڑی اور مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے 90 فیصد حاضری کے ساتھ 46،46 اجلاسوں میں شرکت کی۔

اس کے علاوہ اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی حاضری 88 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے 51 میں سے 40 اجلاسوں میں شرکت کی جس سے ان کی حاضری 78 فیصد رہی،پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی نے 43فیصد ، مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم کھوسہ نے 73فیصد اجلاسوں میں شرکت کی ،جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر نواب اسلم رئیسانی نے 4فیصد اجلاسوں میں شرکت کی ، نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حاضری 49 فیصد رہی جمعیت علماء اسلام کے رکن فضل قادر مندوخیل، عوامی نیشنل پارٹی کے رکن ملک نعیم خان بازئی اور نیشنل پارٹی کی رکن کلثوم نیاز بلوچ کی حاضری 86 فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو کی حاضری 84 فیصد ریکارڈ کی گئی۔دوسری جانب چند ارکان اسمبلی کی حاضری انتہائی کم رہی۔ رپورٹ کے مطابق نواب ثنائ اللہ خان زہری کسی بھی اجلاس میں شریک نہ ہوئے ۔ اسی طرح سابق رکن میر علی حسن زہری اور میر ظفر اللہ خان زہری کی حاضری 8 فیصد، نواب جنگیز خان مری کی 12 فیصد جبکہ محمد خان طور اتمانخیل کی حاضری 14 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

نواب محمد اسلم رئیسانی نے صرف دو اجلاسوں میں شرکت کی جس سے ان کی حاضری 4 فیصد رہی۔رپورٹ کے مطابق سلمیٰ بی بی کاکڑ 82 فیصد، نور محمد دمڑ، خیر جان بلوچ ، بخت محمد کاکڑ 80 فیصد، صمد خان گورگیج ، سید ظفر علی آغا 78 فیصد،عبدالمجید بادینی 76 فیصد، میر زابد علی ریکی ، میر لیاقت علی لہڑی، اصغر علی ترین ،صفیہ فضل الرحمن 75 فیصدشاہدہ رؤف ،راحیلہ حمید خان درانی 73 فیصد، میر اصغر رند 71 فیصد،ڈاکٹر نواز کبزئی ، میر ظہور احمد بلیدی ،انجینئر زمرک خان اچکزئی 69 فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے۔

اسی طرح زرک خان مندوخیل 67 فیصد، فرح عظیم شاہ 65 فیصد، ہادیہ نواز ، برکت علی رند 63 فیصد، مینا مجید بلوچ 61 فیصد، میر شعیب نوشیروانی 61 فیصد، ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ ،کوہیار خان ڈومکی میر رحمت صالح بلوچ 59 فیصد، مولوی نوراللہ، سردار عبدالرحمن کھیتران 57 فیصد، غلام دستگیر بادینی 55 فیصد، محمد زرین خان مگسی 53 فیصد، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی 51 فیصد، عبید اللہ گورگیج ، اشوک کمار 49 فیصد، روی پہوجا 43 فیصد، فیصل خان جمالی 39 فیصد، نوابزادہ طارق خان مگسی ، میر جہانزیب مینگل 37 فیصد، اسفند یار خان کاکڑ ،میراسد اللہ بلوچ 33 فیصد، پرنس احمد عمر احمدزئی 31 فیصد اور شہناز عمرانی 29 فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے جبکہ ایک نشست (بی پی 36) خالی ہونے کے باعث اس پر کوئی حاضری ریکارڈ نہیں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں