111

بلوچستان میں تیز ہوائیں چلنے کے باعث ساحلی علاقے میں 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرکے توانائی بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے

ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ توانائی بلوچستان صاحبزادہ نجیب اللہ اور آئی ڈی ایس پی کی بانی قرة العین بختیاری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تیز ہوائیں چلنے کے باعث جدید نظام سے وسیع و عریض رقبے اور ساحلی علاقے میں 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرکے توانائی کے بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں متبادل توانائی کے حصول اور اسکے استعمال کی اہمیت کے بارے میں منعقدہ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ توانائی صاحبزادہ نجیب اللہ ،قرة العین سمیت دیگر کا کہنا تھا کہ بجلی کی بچت کے لئے بلوچستان کے اکثر دفاتر میں سولر پینلز نصب کئے گئے دنیا میں سب سے زیادہ سولر انرجی کی صلاحیت بلوچستان میں پائی جاتی ہے چاغی، قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے موضوع ترین علاقے ہیں ۔

صاحبزادہ نجیب اللہ نے کہا کہ اگر ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد ہو جائے تو ہم 20ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں قابلِ تجدید توانائی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے بلوچستان ملک کا پہلا صوبہ ہے جس نے قابل تجدید توانائی پالیسی لیڈ کر رہا ہے بلوچستان کی ہوا اور سورج بہترین توانائی فراہم کرتے ہیںانہوں نے مذکورہ پالیسی کا مقصد بلوچستان میں توانائی کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے ۔

محکمہ توانائی نے قابلِ تجدید توانائی پالیسی کے لیے تمام بڑے محکموں کو آن بورڈ لیا ہے ۔ قرة العین بختیاری نے کہا کہ قدرت نے بلوچستان کو قابل تجدید توانائی وسائل سے مالامال کر رکھا ہے اگر قدرتی وسائل کو اب بھی شامل نہ کیا گیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں پالیسی کا مقصد بلوچستان میں انرجی کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ اورپالیسی کے تحت صوبے بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت گھر گھر بجلی فراہم کرنا ہے تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پایا جاسکی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں