119

کوئٹہ دھماکے کے بعد اپوزیشن جماعتوں میں یکجہتی: کیا بلوچستان میں نیا سیاسی اتحاد بننے جا رہا ہے؟

کوئٹہ میں 2 ستمبر کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے باہر ہونے والے خودکش بم دھماکے اور اس کے رد عمل میں سخت احتجاج اور مؤثر ہڑتال نے بلوچستان کی بلوچ پشتون قوم پرست جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔
ان بڑھتی ہوئی قربتوں نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا یہ جماعتیں جو کبھی ایک دوسرے کی سخت مخالف رہی ہیں اب کسی نئے سیاسی اتحاد میں اکٹھی ہو سکتی ہیں یا یہ صرف وقتی یکجہتی ہے؟
سابق وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل کی چوتھی برسی کے موقع پر منعقدہ جلسے میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے سابق سیکریٹری جنرل سینیٹر کبیر محمد شہی، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، تحریک انصاف کے صوبائی صدر دادؤ کاکڑ دیگر جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں