125

کالا باغ ڈیم اور افغانوں کو شہریت دینے کی سازش: پشتونوں کو وطن سے محروم کرنے کا منصوبہ؟

کالا باغ ڈیم اور افغانوں کو شہریت دینے کی سازش: پشتونوں کو وطن سے محروم کرنے کا منصوبہ؟
پشتونوں کے خلاف سازشوں کی تاریخ نئی نہیں۔ کبھی ایک غیر معروف جماعت کو پشتون نمائندہ بنا کر پیش کیا گیا، کبھی حقیقی عوامی قیادت کو پابند سلاسل کیا گیا، اور اب ایک بار پھر اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی اچانک حمایت دراصل اسی سازش کی نئی کڑی ہے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جس کے بارے میں باچا خان نے پشتونوں کو سخت تنبیہ کی تھی کہ اگر تمام پشتون ختم بھی ہوجائیں تب بھی کالا باغ ڈیم نہ بننے دیں، کیونکہ اس کے بعد پشتون زندہ درگور ہوجائیں گے۔لیکن خطرہ صرف کالا باغ ڈیم تک محدود نہیں۔ علی امین گنڈاپور نے اپنی گفتگو میں افغان مہاجرین کو شہریت دینے کی بھی تجویز دی۔ یہ تجویز بظاہر انسان دوستی کے لبادے میں لپٹی ہے لیکن حقیقت میں اس کے دور رس اور خطرناک نتائج ہیں۔ اس کا مقصد نہ صرف پاکستان کے پشتون علاقوں میں پشتون اکثریت کو کمزور کرنا ہے بلکہ افغانستان کے اندر بھی پشتون اکثریت کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔جب پشتون اپنی ہی زمین پر اقلیت میں بدل جائیں گے تو پھر باقی تمام متنازعہ مسائل کو شمالی اتحاد کے ساتھ مل کر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس صورت میں پشتون نہ صرف اپنے سیاسی و معاشی اختیارات سے محروم ہوجائیں گے بلکہ اپنے وطن پر بھی حقِ ملکیت کھو بیٹھیں گے۔یہ وقت ہے کہ پشتون عوام اور قیادت دونوں ان سازشوں کو پہچانیں۔ کالا باغ ڈیم ہو یا افغانوں کو زبردستی پاکستانی شہریت دینے کی کوشش، یہ سب دراصل ایک ہی منصوبے کے مختلف پہلو ہیںپشتونوں کو اپنے وطن سے محروم کرنے کے۔اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسے اقدامات وقتی سیاسی فائدہ دے سکتے ہیں لیکن اس کے طویل المدت نتائج نہ صرف پشتون خطے بلکہ پورے ہمارے ملک پاکستان کے لیے بھی تباہ کن ہوسکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں