قائد جمعیت نے جب دلائل کی بنیاد پر طاقتور قوتوں سے سوالات کیے اور جواب طلب کیا تو جواب دینے کے بجائے ان کی نجی رہائش گاہ کی ڈرون فوٹیج بنا کر چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا،مولانا عبدالواسع

36

جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کے تقدس کی پامالی کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد جمعیت نے جب دلائل کی بنیاد پر طاقتور قوتوں سے سوالات کیے اور جواب طلب کیا تو جواب دینے کے بجائے ان کی نجی رہائش گاہ کی ڈرون فوٹیج بنا کر چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا، یہ رویہ دلیل کا جواب بداخلاقی سے دینے اور سیاسی شکست کا اعتراف کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیادت کے حکم پر صرف تین چار گھنٹے کے نوٹس پر اس عظیم الشان مظاہرے میں کارکنوں اور عوام کی بھرپور شرکت نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر مختصر وقت میں اتنا بڑا اجتماع ہوسکتا ہے تو باقاعدہ تیاری کے بعد جمعیت کی عوامی قوت کا مقابلہ کرنا مخالفین کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے کارکنوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب گھروں میں بیٹھنے کا نہیں بلکہ میدان میں نکلنے کا وقت ہے، قائد کے ساتھ کیے گئے عہد کو پورا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام نے ہمیشہ پاکستان کے استحکام اور وحدت کے لیے جدوجہد کی ہے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے سانحے کے باوجود ہمارے اکابرین نے ملک کو بچانے اور قومی یکجہتی برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں، جبکہ 2008 میں ہزاروں علما کے دستخطوں سے واضح کیا گیا کہ پاکستان میں مسلح جدوجہد کی کوئی گنجائش نہیں، اس کے باوجود ملک میں دہشت گردی اور پراکسی پالیسیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل سے متعلق متنازع بل کے معاملے پر جمعیت علما اسلام نے وفاقی کابینہ کا بائیکاٹ کرکے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور شدہ بل واپس لینے پر مجبور کیا، یہ جمعیت کی اصولی اور پارلیمانی جدوجہد کی تاریخی مثال ہے، اسی اقدام سے بعض قوتیں ناراض ہوئیں اور جمعیت کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی کوششیں کی گئیں۔

مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اٹھارہ یا اٹھائیس صوبوں کے نام پر ملک کی وحدت اور قومی یکجہتی کو خطرات سے دوچار کرنے کی کسی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا، پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قائد جمعیت کی رہائش گاہ کی فضائی نگرانی اور فوٹیج بنانے کے معاملے پر وضاحت دی جائے اور اٹھائے گئے سوالات کے جواب دلیل اور آئین کے دائرے میں دیے جائیں، جمعیت علما اسلام پاکستان کے استحکام، آئینی بالادستی، جمہوری حقوق اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں