جامعہ بلوچستان کے 170 سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کے 52 کروڑ روپے واجبات پانچ سال سے التوا کا شکار

45

جامعہ بلوچستان کی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی سے مطالبہ کیا ہے کہ 170 سے زائد ریٹائرڈ اساتذہ، پروفیسرز اور ملازمین کے پنشن، کمیوٹیشن اور لیو انکیشمنٹ کے واجبات فوری ادا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بارچ نے صوبائی وزیر تعلیم کے نام خط میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 52 کروڑ روپے سے زائد رقم جاری کیے جانے کے باوجود متعلقہ ملازمین کو تاحال ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ رقم جامعہ بلوچستان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوچکی ہے، تاہم ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین گزشتہ پانچ سال سے اپنے واجبات کے منتظر ہیں اور مسلسل تاخیر کے باعث انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بارچ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مطلوبہ فنڈز جاری کیے جانے کے باوجود بزرگ ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کے واجبات کی ادائیگی میں مزید تاخیر بلاجواز ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیر خزانہ اور صوبائی وزیر تعلیم سمیت صوبائی حکومت کا 52 کروڑ روپے سے زائد رقم جاری کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ کو تمام زیر التوا واجبات کی بلا تاخیر ادائیگی کے لیے واضح ہدایات جاری کریں۔

ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ فنڈز خصوصی طور پر ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے ہیں، اس لیے جامعہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مزید تاخیر کیے بغیر مستحق ملازمین کو ان کی رقوم ادا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں