ایسی روش سے نہ صرف متعلقہ وزراء کی سیاسی تربیت اور سنجیدگی بے نقاب ہوتی ہے بلکہ ان کے پیچھے موجود پشتی بانوں کی سنجیدگی، وقار اور عزت پر بھی سوالیہ نشان کھڑے ہوتے ہیں۔
کوئٹہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر علماء کرام، قبائلی عمائدین اور مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے سنجیدہ، مدلل اور قومی مفاد پر مبنی سیاسی مؤقف پر غور کرنے اور ان کی تجاویز کا حقیقت پسندانہ جواب دینے کے بجائے بعض مسخرہ صفت اور عوامی تائید سے محروم وزراء کی جانب سے کردار کشی، ذاتی حملوں اور غیر سنجیدہ بیانات کا سہارا لینا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ دلیل اور سیاسی بصیرت کا مقابلہ کرنے کے بجائے مخالفین کو ذاتی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایسی روش سے نہ صرف متعلقہ وزراء کی سیاسی تربیت اور سنجیدگی بے نقاب ہوتی ہے بلکہ ان کے پیچھے موجود پشتی بانوں کی سنجیدگی، وقار اور عزت پر بھی سوالیہ نشان کھڑے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن ملک کے ایک مدبر سیاسی رہنما ہیں، جنہوں نے ہمیشہ آئین، پارلیمان، جمہوری اقدار، عوامی حقوق اور ملکی خودمختاری کی بات کی ہے۔
ان کے مؤقف کو ذاتی حملوں سے دبایا نہیں جا سکتا، کیونکہ سیاسی اختلاف کا جواب دلیل، کردار اور کارکردگی سے دیا جاتا ہے، گالم گلوچ، الزام تراشی اور جھوٹے پروپیگنڈے سے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جھوٹ کو ڈھٹائی سے دہرانے والے بہت جلد اپنی حقیقت سے دوچار ہوں گے اور انہیں عوام کے سامنے جواب دینا پڑے گا۔
ہمارے دروازوں پر سجدہ ریز ہونے کی باتیں کرنے والوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بغیر وضو کے سجدے بھی کام نہیں آئیں گے۔
سیاست میں عزت اور وقار کا راستہ سچائی، اصول پسندی اور عوامی خدمت سے ہو کر گزرتا ہے۔
اقتدار کی مجبوریوں میں مخالفین پر الزامات لگانے سے نہ عوامی مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی حکمرانوں کی ساکھ بحال ہو سکے گی۔ اس موقع پر جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل آغا محمود شاہ نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی قیادت اور کارکنوں نے ہمیشہ آئینی، جمہوری اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے عوام کے حقوق کی ترجمانی کی ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف حقائق، قومی مفاد اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔
حکمران جماعت کے وزراء اپنی کارکردگی کا دفاع کرنے کے بجائے جمعیت کی قیادت کے خلاف غیر شائستہ زبان استعمال کرکے اپنی سیاسی کمزوریوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر کے عوام مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ وزراء کو چاہیے کہ وہ سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔
جمعیت علماء اسلام اصولی سیاست، آئین کی بالادستی، پارلیمان کے احترام اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی دباؤ، الزام تراشی یا پروپیگنڈے سے اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں.









