دہشتگرد حملے‘بیگناہوں کا قتل عام تمام مذاہب کی تعلیمات کے منافی‘علماء کا متفقہ اعلامیہ

35

چیئرمین پاکستان علماء کونسل و کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی طاہر محمود اشرفی کی زیر صدارت قومی پیغامِ امن کمیٹی اور صوبائی پیغامِ امن کمیٹی کے زیرِ اہتمام جامعہ سلفیہ دعوۃ الحق میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین کا اہم مشترکہ اجلاس ہوا۔ علی محمد ابو تراب، ڈاکٹر آصف میر، مفتی یوسف کشمیری، مولانا سمیع اللہ آغا، قاسم حقانی، نصر اللہ حسینی، مفتی محمد جان قاسمی، حزب اللہ عثمانی، سمیع اللہ اعوان، مولانا عبدالرحمن، عبداللہ حقانی، مفتی عمر فاروق، عبدالرحمان سلفی، پاسٹر سائمن بشیر، سردار جسبیر سنگھ ودیگرشریک ہوئے۔ متفقہ اعلامیے میں خودکش حملوں، دہشت گردی، انتہا پسندی اور بے گناہوں کے قتل کے خلاف متفقہ فتویٰ کی توثیق کرتے ہوئے پیغامِ پاکستان کے قومی بیانیے کی مکمل تائید کی گئی۔ اعلامیے میں کہا گیا خودکش حملے حرام، بے گناہ انسانوں کا قتل ناجائز اور دہشت گردی اسلام سمیت تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔ معصوم شہریوں کا دہشت گردی اور خودکش حملوں کیلئے استعمال قابلِ مذمت اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔اعلامیے میں خوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف افواجِ پاکستان ،سکیورٹی اداروں کی جدوجہد کی مکمل تائید و حمایت کی گئی۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ اور مختلف مذاہب کے قائدین دہشت گردی، انتہا پسندی کے خلاف متحد ہیں۔ کسی کو مذہب یا مسلک کی آڑ میں پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ نوجوان نسل کو انتہا پسندانہ نظریات، نفرت انگیز پروپیگنڈے اور دہشت گرد تنظیموں سے محفوظ رکھنے کیلئے علماء و مشائخ، مذہبی قائدین، اساتذہ اور سماجی شخصیات مشترکہ کردار ادا کریں گی۔متفقہ اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی سلامتی، انسانی جان کا احترام، دہشت گردی کا خاتمہ اور قومی یکجہتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اجلاس میں متفقہ قرارداد کے ذریعے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمِ اسلام کے اتحاد، علاقائی استحکام اور عالمی امن کیلئے کوششوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں سیبھی اپیل کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں مثبت سفارتی کوششوں کی تائید و حمایت کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں