امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو امن،حقوق اور انصاف کی ضرورت ہے۔سرداری نظام بل کی حمایت کرکے مذہبی پارٹی بھی بے نقاب ہوگئی۔بڑے بڑے سرکاری، نیم سرکاری اور قبائلی عہدے رکھنے والے تمام افراد کو عوام کی مشکلات اور مسائل کا احساس کرنا چاہیے۔
اگر سرداروں اور نوابوں نے اپنے اپنے علاقوں میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے نام سے مفت اور معیاری ہسپتال، تعلیمی ادارے اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی ہوتیں تو آج بلوچستان کے عوام مسائل کے دلدل میں اس قدر نہ پھنسے ہوتے۔ جماعت اسلامی ہر ظالم اور ظلم کے خلاف جبکہ ہر مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں مختلف وفود سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل اور معدنیات یہاں کے عوام کی حالت بدلنے، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور تعلیم و صحت کی سہولیات بہتر بنانے پر خرچ ہونے چاہئیں۔ بدقسمتی سے بلوچستان کے عوام آج بھی امن، حقوق اور انصاف کے لیے ترس رہے ہیں، کاروبار اور تجارت تباہی کا شکار ہیں، شاہراہوں پر مشکلات بڑھ رہی ہیں، جبکہ عوام کے وسائل پر ان کا حق تسلیم کرنے کے بجائے انہیں مسلسل محرومیوں سے دوچار رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے ووٹ اور اعتماد کو بار بار ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ عوام نے اپنے بہتر مستقبل کی امید پر نمائندے منتخب کیے، لیکن فارم47کے نمائندے مسلط عوام کے بنیادی مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔ وسائل کی حفاظت اور سکیورٹی کے نام پر بھی عوامی خزانے پر بھاری اخراجات کیے جا رہے ہیں، مگر عوام کو امن، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات میسر نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر وسائل سے عوام کی زندگیوں میں بہتری نہیں آتی تو ان وسائل کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان معدنی دولت، ساحل، سمندر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، لیکن یہاں کے نوجوان روزگار کی تلاش میں پریشان ہیں، غریب خاندان علاج معالجے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔
صوبے کی ترقی صرف اعلانات، دعوؤں اور بڑے منصوبوں کے ناموں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات، شفاف منصوبہ بندی اور عوام کے سامنے جواب دہی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کریں، قانون کی حکمرانی یقینی بنائیں اور ہر شہری کو بلاامتیاز انصاف فراہم کریں۔ بلوچستان کے عوام کو مزید وعدوں اور تسلیوں کے بجائے عملی ریلیف کی ضرورت ہے۔
امن و امان کی بحالی، لاپتہ افراد کے مسئلے کا منصفانہ حل، کاروبار اور تجارت کے لیے سازگار ماحول، سرحدی تجارت میں آسانیاں اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو ان کے جائز حقوق دینے سے ہی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو سکتی ہے۔ طاقت، دھونس اور محرومیوں کے ذریعے مسائل حل نہیں کیے جا سکتی؛ مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات، انصاف اور عوامی رائے کا احترام ناگزیر ہے۔
بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں اور اپنے وسائل پر جائز حق، باعزت روزگار، تعلیم، صحت اور امن چاہتے ہیں۔ ان مطالبات کو نظرانداز کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق، وسائل کے تحفظ اور ظلم کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے وسائل بلوچستان ہی کے عوام کی خوشحالی پر خرچ ہوں، ہر ضلع میں معیاری تعلیمی ادارے اور ہسپتال قائم ہوں، نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار ملے اور کسی بھی شہری کو اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے۔ بلوچستان کی ترقی کا حقیقی معیار چند افراد کی خوشحالی نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری، انصاف کی فراہمی اور امن کا قیام ہے۔









