مقروض کے مرنے کے بعد اس کا قرضہ کون ادا کرے گا؟ عدالت نے فیصلہ سنادیا

43

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مقروض کے مرنے کے بعد ورثا ذاتی طور پر قرض کی ادائیگی کے پابند نہیں، تاہم رہن شدہ جائیداد سے بینک قرض وصول کرسکتا ہے۔

جسٹس چوہدری سلطان محمود اور جسٹس تنویر احمد شیخ پر مشتمل بینچ نے نجی بینک کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا،4صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس چوہدری سلطان محمود نے تحریر کیا۔ عدالت نے بینک کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے بینکنگ کورٹ کا فیصلہ تبدیل کردیا۔

فیصلے کے مطابق مرحوم کے ورثا ذاتی طور پر قرض کی ادائیگی کے پابند نہیں، مرحوم کی وفات کے بعد تیار کردہ قرض کی تجدیدی دستاویزات کی بنیاد پر ورثا پر ذاتی ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی تاہم مرحوم کی زندگی میں رہن رکھی گئی جائیداد سے بینک قرض وصول کر سکتا ہے۔

فیصلے کے مطابق ورثا کی ذاتی ذمہ داری اور وراثت میں ملنے والی رہن شدہ جائیداد کی قانونی حیثیت الگ الگ معاملات ہیں، مرحوم کی وفات سے رہن شدہ جائیداد رہن سے آزاد نہیں ہو جاتی۔

عدالت نے نجی بینک کی اپیل جزوی طور پرمنظور کرلی، قرار دیا کہ بینک کو اصل رہن نامے کے تحت جائیداد سے قرض وصول کرنے کا حق حاصل ہے، قرض کی تجدیدی دستاویزات مرحوم کی وفات کے بعد تیار کی گئیں، ورثا کو ذاتی طور پر ادائیگی کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے بینکنگ کورٹ کا فیصلہ جزوی طور پر تبدیل کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں