قلات ، شورپارود سے 5ہزار خاندانوںکو 30 اکتوبر تک علاقہ خالی کر کے کیمپوں میں منتقل ہونےکی ہدایت

42

حمزہ شفقات نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے متاثرہ آبادی کی منتقلی کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، خیموں اور دیگر ضروری اشیاء￿ سمیت بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خضدار کے کمشنر کو اس کارروائی کی نگرانی اور امدادی اقدامات میں رابطہ کاری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

کوئٹہ: بلوچستان کے پہاڑی سلسلے شورپارود میں تقریباً 5 ہزار خاندانوں پر مشتمل 30 ہزار افراد کو بے دخلی کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو مقررہ کیمپوں میں رضاکارانہ طور پر منتقل ہونے کے لیے 30 اکتوبر کی آخری تاریخ مقرر کر دی ہے۔ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ علاقہ چھوڑنے سے انکار کریں گے، ان کے خلاف جبری بے دخلی کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

اس حوالے سے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری محمد حمزہ شفقات نے اعلان کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو اور وزیراعلیٰ کے میڈیا و سیاسی امور کے معاون شاہد رند بھی موجود تھے۔

حمزہ شفقات نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے متاثرہ آبادی کی منتقلی کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، خیموں اور دیگر ضروری اشیاء￿ سمیت بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خضدار کے کمشنر کو اس کارروائی کی نگرانی اور امدادی اقدامات میں رابطہ کاری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے کہا کہ شورپارود کا پہاڑی سلسلہ سرکاری ملکیت کی زمین ہے، تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس علاقے میں اس وقت رہائش پذیر لوگوں کے دعوؤں پر بھی مناسب طور پر غور کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق سیکیورٹی خدشات اور ریاست مخالف عناصر کی سرگرمیوں کے باعث آبادی کی منتقلی ضروری ہو گئی ہے۔

سیکیورٹی کی صورتحال اور حکومتی اقدامات

صوبائی وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خطرات پر قابو پانے کے لیے قومی سطح پر اجتماعی عزم، مؤثر قانون سازی اور ریاستی اداروں کے درمیان رابطہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں اپنے اختلافات ایک طرف رکھیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز شہریوں اور دیگر غیر محفوظ اہداف کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت سیکیورٹی اداروں کو ضروری مالی، قانونی اور انتظامی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو عارضی طور پر منتقل کرنے کی صورت میں انہیں ضروری امداد اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے متعلق جاری بحث کا حوالہ دیتے ہوئے ضیاء￿ اللہ لانگو نے کہا کہ اس طرح کے غیر معمولی اقدامات پر صرف غیر معمولی حالات میں غور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی رہنماؤں اور عوام کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو قومی یکجہتی، ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد یا سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔

انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات اور اعداد و شمار

انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے حمزہ شفقات نے بتایا کہ قومی ایکشن پلان کے 14 نکات اور صوبائی ایکشن پلان کے 18 نکات پر عمل درآمد جاری ہے۔

ان کے مطابق صوبائی حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے 18 قوانین کی منظوری دی ہے، سیکیورٹی کے 17 نئے ڈھانچے قائم کیے ہیں اور سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی عدالتیں اور انتظامی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔

حمزہ شفقات نے بتایا کہ دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کے سلسلے میں 90 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ 41 مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر تقریباً 40 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اکتوبر تک بلوچستان بھر میں 60 ہزار سے زائد کارروائیاں کی جا چکی ہیں، جن کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی کارروائیوں کے نتیجے میں 250 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، جبکہ مزید 250 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

حمزہ شفقات کے مطابق نگرانی اور فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ داخلہ کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے تعاون سے ڈومیسائل کی تصدیق اور اسلحہ لائسنس کے ریکارڈ کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اہم شاہراہوں پر سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا انتظامی ڈویڑن قائم کرنے پر کام جاری ہے۔ مزید برآں، آئندہ تین سے چار ماہ کے دوران کوئٹہ سے کراچی اور تفتان جانے والے راستوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

جانی نقصانات کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے کہا کہ 101 پولیس اہلکار، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے تقریباً 200 اہلکار اور 551 عام شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حکام نے چمن میں 10 ہزار ڈیٹونیٹرز ضبط کیے ہیں، جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے بتایا کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں یوریا کھاد کے مبینہ غلط استعمال کے شواہد سامنے آنے کے بعد صوبے میں اس کے استعمال پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ اس حوالے سے ایک جامع ضابطہ جاتی نظام تیار کیا جا رہا ہے۔

حمزہ شفقات نے بلوچستان کی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ کے بھائی اور کمشنر رخشان ڈویڑن کی جلد بازیابی کی امید بھی ظاہر کی۔

شاہد رند کا مؤقف

دوسری جانب وزیراعلیٰ کے میڈیا و سیاسی امور کے معاون شاہد رند نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کا ایک دوسرے سے موازنہ کرنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت قانون سازی کے معاملات پر مسلسل کابینہ اور صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کان کنی اور معدنیات سے متعلق قانون سازی کے معاملے پر اپوزیشن سے بھی مشاورت کی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں بعد ازاں سامنے آنے والے تحفظات کا جائزہ لیا جائے گا۔

شاہد رند نے کہا کہ حکومت نے سیکیورٹی کارروائیوں کے حوالے سے میڈیا کو تفصیلی اعداد و شمار فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی سے متعلق خبریں نشر کرتے وقت پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے رہنما اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تمام اداروں اور حکومتوں کو آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے پْرعزم ہے اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں