بلوچستان ہائیکورٹ کا معذور افراد کے حقوق اور قانونی مراعات پر عملدرآمد سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرنے کا حکم

19

بلوچستان ہائیکورٹ نے معذور افراد کے حقوق اور انہیں حاصل قانونی مراعات پر عملدرآمد سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو معذور افراد ایکٹ 2007ء پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمک فنڈ کے تحت بلوچستان میں اب تک تقریباً 34 ہزار معذور افراد رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جبکہ فنڈ کا ابتدائی سرمایہ 3 ارب روپے اور متوقع ماہانہ آمدن 2 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔ رپورٹ کے مطابق معذور افراد کی ماہانہ مالی معاونت کے لیے 6 ہزار اور 8 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکلاء نے کمک فنڈ کی تقسیم اور معذور افراد کے لیے مختص رقوم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تعلیمی معاونت کے لیے صرف 7 فیصد رقم مختص کرنے پر بھی اعتراض کیا۔ عدالت نے نجی ہسپتالوں میں معذور افراد کے لیے 50 فیصد رعایت، ملازمتوں میں کوٹے، عمر میں رعایت، تعلیمی سہولیات اور دیگر قانونی مراعات پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

عدالت نے پرائیویٹ ہسپتال ریگولیٹری اتھارٹی، تعلیم، ٹرانسپورٹ، لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں کو طلب کرتے ہوئے درخواست گزاروں کے وکلاء کو رپورٹ پر نظرثانی کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دے دی۔ بلوچستان ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 16 نومبر 2026ء تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں