پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ حکومت زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو بحال رکھنے اور عوام کو پانی کی فراہمی سمیت زرعی شعبے کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے وفاقی اور صوبائی حکومت سے درخواست کی ہے کہ زیر تعمیر ڈیمز کی تعمیر مکمل کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ انہیں بروقت مکمل کیا جاسکے اور آئندہ شروع ہونے والے تمام منصوبوں کو 3 سال میں مکمل کرنے کی مدت مقرر کی جائے جس پر سختی سے عملدرآمد ممکن بنایا جائے گا۔
’’آن لائن‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ 30 سال سے بارشوں اور برفباری میں نمایاں کمی واقع ہونے اور زیر زمین پانی کو نکالنے کا سلسلہ تیز ہونے کی وجہ سے پانی کی سطح کو ریچارج کرنے کے لے وہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے جن کی ضرورت تھی کیونکہ ڈیمز کی تعمیر سے بارشوں اور برفباری کا پانی ضائع ہوجاتا ہے اگر ڈیمز تعمیر ہوں گے تو ان میں پانی ذخیرہ کرکے لوگوں کو پینے ، زرعی مقاصد اور لائیو سٹاک کے شعبے کی بحالی اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ زیر زمین گرتی ہوئی پانی کی سطح کو بحال رکھا جاسکتا ہے زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح ، بارشوں اور برفباری کی کمی کی وجہ سے زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے حالانکہ پانی انسانی زندگی کا اہم جز ہے کوئٹہ سمیت صوبے میں ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کا پانی ضائع ہورہا ہے اس وقت کوئٹہ میں پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے اسی طرح صوبے میں یہی صورتحال ہے انہوں نے کہا کہ ڈیمز سمیت دیگر بڑے منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات بڑھی ہے اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے منصوبوں کے حوالے سے سریا، سیمنٹ اور دیگر لوازمات کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہے اس لئے حکومت نے کوشش کی ہے کہ تمام بڑے منصوبے 3 سال میں مکمل کرنے کی مدت مقرر کی ہے کیونکہ بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے منصوبوں کے مکمل ہونے میں مشکلات درپیش آرہی ہے جس طرح بلوچستان میں کچھی کینال کا منصوبہ 24 سال سے اور ڈیمز کا منصوبہ 20 سال سے مکمل نہیں ہورہا جس میں وندر ڈیم بھی مکمل نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ 200 ڈیمز کا منصوبہ فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے التواء کا شکار ہے اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومت سے رجوع کررہے ہیں کہ وہ زیر منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے فنڈز فراہم کرے تاکہ انہیں فوری مکمل کرکے ان کے ثمرات عوام تک منتقل کئے جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سے زیر تکمیل منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے بات کی ہے انہوں نے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے محکمہ ایریگیشن کا انجینئرنگ کا شعبہ اور 12 کور کے توسط سے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے ان کے انجینئرنگ کے شعبے سے مدد حاصل کریں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیمز سمیت منصوبے فیزبیلٹی رپورٹ کے مطابق مقررہ مقام پر ہی بنتے ہیں ان کی جگہ صرف وزیر اعلیٰ یا کابینہ ہی تبدیل کرسکتی ہے انہوں نے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر کی فیزیبلٹی میں 5 لاکھ کیوسک سے لیکر ڈیڑھ کروڑ ذخیرہ کرنے کی رپورٹ بناکر اس کا کام مکمل کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی وقت بارشوں یا سیلاب کی وجہ سے زیادہ پانی آنے سے اسے متاثر نہ کرسکے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صرف نصیر آباد ڈویژن میں نہری نظام موجود ہے جس کی بہتری کے لئے کام جاری ہے ہماری کوشش ہے کہ جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے تاکہ ان کے ثمرات عوام تک منتقل ہوسکی









