حکومت تمام اکیڈمیوں کی خودمختاری ختم کرکے انہیں بیوروکریسی کے ماتحت کرنا چاہتی ہے، لینگویجز اکیڈمیز بلوچستان

30

بلوچستان کی علاقائی زبانوں کی اکیڈمیز کے رہنمائوں چیئرمین بلوچی اکیڈمی ہیبتان عمر، پشتو اکیڈمی کے جنرل سیکرٹری نقیب اللہ نے کہا ہے کہ حکومت ایکٹ کے ذریعے اکیڈمیز اور ادبی سوسائٹیز کو بیورو کریسی کے تسلط میں لانا چاہتی ہے۔

جس کو ہم قبول نہیں کریں گے ا س سے خود مختاری سلب ہوگی اس لئے ہماری ممبران پارلیمان سے اپیل ہے کہ وہ علاقائی زبانوں ، اکیڈمیز اور ادبی سوسائٹیز کے ایکٹ کو پاس کرنے کی بجائے قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے حوالے کریں اگر اس کو منظور کیا گیا تو ہم اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔

ان خیالات خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں چیئرمین براہوی اکیڈمی ڈاکٹر سوسن براہوی، چیئرمین پشتو اکیڈمی ، ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی، چیئرمین ہزارگی اکیڈمی احمد علی بیگ سمیت دیگر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوروان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی علاقائی زبانوں کے حوالے سے بلوچی، پشتو، براہوی اور ہزارگی کی اکیڈمیز کئی دہائیوں سے صوبے میں زبان، ادب اور ثقافت کے فروغ کے لئے اپنی مدد آپ اور چیئریٹی کے طور پر کام کررہی ہیں۔

یہ اکیڈمیز بلوچستان چیریٹی ایکٹ 2019ء کے تحت رجسٹرڈ خود مختار ادارے ہیں اور حکومت سے گرانٹ ان ایڈوصول کرتی ہیں لیکن قانونی طور پر اپنے فیصلوں میں آزاد خود مختار ہیں۔ یہ بل آج بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے اس پر نہ تو متعلقہ زبانوں کے ادبی اداروں اور اکیڈمیز کے نمائندوں سے کوئی مشاورت کی گئی ہے اور نہ ہی اس پر باقاعدہ کسی فورم پر بحث و مباحثہ ہوا ہے یہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے کہ عوامی مفاد سے جڑے بل کو بغیر مشاورت کے فوری طور پر منظور نہ کیا جائے کیونکہ مذکورہ ایجنڈے کے مطابق اس بل کو آرٹیکل 84 اور 85 کے تقاضوں سے مستثنیٰ قرار دینا چاہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ اس بل کے مالی اثرات پر کوئی بحث ہو یا قائمہ کمیٹی اس کا جائزہ لے ہم اس کو مستثنیٰ کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہیں کیونکہ یہ شفاف قانون سازی کے عمل کو روکنے کی کوشش ہے۔

یہ بل اپنی شق 12 کے ذریعے 2019ء کے ایکٹ سے تصادم پیدا کررہا ہے۔ اس سے ہماری خود مختاری ختم ہوکر ہمیں سرکاری بیورو کریسی کے ماتحت کردیا جائے گا جو کہ ہماری علمی ادبی آزادی کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل پاس ہوتا ہے تو اکیڈمیز کے تمام امور بشمول کتابوںکی اشاعت ، مصنفین کے معاوضے اور ادبی فیصلے سیکرٹری کلچر اور سیکرٹری خزانہ کی سربراہی میں ایک سرکاری کمیٹی کے مرہون منت ہوں گے۔

کیونکہ بیورو کریٹس علم و ادب کے فیصلے کرنے سے اتنے آشناء جتنے ہر زبان کے اپنے ادیب اور مصفین ہوتے ہیں اس لئے یہ ذمہ داری اہل زبان اور ادیبوں کا حق ہے نہ کہ سرکاری عہدیداروں کا اور موجودہ ایکٹ میں کئی سقم موجود ہے جس سے زبان اور ادب کی ترقی میں مزید مشکلات بڑھیں گی اس لئے ہماری تمام ممبران پارلیمان سے اپیل ہے کہ وہ اس بل کو اپنی زبانوں کے لئے نقصاندہ سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے پاس نہ ہونے دیں بلکہ اس بل کو فوری طور پر قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے حوالے کیا جائے تاکہ ہماری اکیڈمیز کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع مل سکیں۔ اگر بل پاس ہوا تو ہم اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ اکیڈمیز گزشتہ 70 سال سے چیئریٹی کے طور پر یہ کام اپنی مدد آپ کے تحت کررہی ہیں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اس حوالے سے صوبائی وزراء ، بیورو کریٹس ، ممبران پارلیمان ، سیاسی اور دیگر نمائندوں سے رابطے میں ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم ادب اور زبانوں کے حوالے سے کام کرتے ہیں ہم لوگوں کو لاکر احتجاج نہیں کرسکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں