پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان ،قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان ، سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی اختر جان مینگل، وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سربراہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی سید زین شاہ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے دیگر رہنماء اراکین کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اس بنیاد پر ہوں گے کہ منتخب پارلیمنٹ ہی طاقت کا سرچشمہ ہوگی۔ تمام داخلی اور خارجہ پالیسیاں منتخب پارلیمنٹ میں ہی وضع کی جائیں گی۔ پشتون وطن کو اللہ پاک نے جو وسائل عطا کیے ہیں، ان پر پہلا حق وہاں کے عوام کا تسلیم کیا جائے۔
اسی طرح بلوچ وطن میں اللہ پاک نے جو نعمتیں پیدا کی ہیں، ان پر پہلا حق بلوچستان کے عوام اور ان کے بچوں کا ہو۔ یہی اصول پنجاب اور سندھ کے لیے بھی ہے۔ افواجِ پاکستان، دنیا کی دیگر افواج کی طرح، آئین کے متعین کردہ دائرہ کار میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ ہر ادارہ، چاہے وہ عدلیہ ہو، صحافت ہو یا سیاست، اپنا اپنا کام کرے، لیکن آئین کی بالادستی قائم رہے اور تمام پالیسیاں حقیقی منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے ہی بنائی جائیں۔قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خیبر پشتونخوا کی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ اس فیصلے کو ہم بھی عدالت میں چیلنج کریں۔
یہ ایک ظالمانہ، غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اسلامی اقدام ہے۔ یہ سب بدمعاشی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ وہ جو بھی بہانے کریں، ان کی مرضی۔ ہم پشاور اور تمام پشتونخوا کے عوام کو، چاہے وہ ہزارہ کے ہوں یا گلگت بلتستان کے، سب جانتے ہیں کہ انتخابات کیسے ہوئے۔
یہ حالیہ انتخابات، 24 کے انتخابات، 24 کروڑ انسانوں کو دہشت زدہ کر کے، بندوق اور پیسے کے زور پر، اقتدار پر قبضہ کیا گیا۔ دنیا جانتی ہے، خدا جانتا ہے کہ یہ انتخابات عمران خان کی پارٹی جیت چکی تھی۔ اس جرم کی سزا دینے کے لیے حکومت یہاں تک گئی کہ عدالت کے ذریعے تحریک انصاف سے ان کا نشان چھین لیا گیا۔ پارٹی پر پابندیاں بھی لگائیں۔
اس کے باوجود انتخابات میں تحریک انصاف کے جوانوں نے کمال دکھایا۔ کم از کم اس صوبے میں ان کی ایک نہ چلی۔ باقی پاکستان میں بالکل زور اور پیسے کی بنیاد پر، کروڑوں روپے ایک ایک آدمی کو دے کر اسمبلیاں خریدی گئیں۔ اسمبلی میں تحریک انصاف کے 97 سے اوپر ممبر تھے۔قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اسمبلی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے 97 سے اوپر ممبر تھے۔ تین چار مہینے میں 97 سے ان کو 74 یا 75 پر نکال دیا گیا۔
گوہر ایوب کے لڑکے کو نکال دیا گیا، فلانے کو نکال دیا گیا، بڑی بوڑھی عورتوں کو 50، 50 سال جیل، 60، 60 سال جیل۔ قاتل کی سزا 20 سال ہوتی ہے۔ اگر کوئی آدمی قتل کرے اور اس کو پھانسی نہ ہو، تو اس کی سزا 20 سال ہوتی ہے۔ یہاں غریب بوڑھی عورتیں، میری عمر کے مرد جیلوں میں پڑے ہیں۔
صرف گناہ ان کا یہ ہے کہ انہوں نے الیکشن جیتا ہے، اور حکومتِ وقت ان کے الیکشن کو نہیں مانتی۔ اس سلسلے میں ہم آپ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آئے ہیں۔ یہ وقت بیٹھنے کا نہیں ہے، یہ وقت حقِ انتخاب کو بچانے کا ہے۔
مسئلہ یہ ہے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان میں، خیبر پشتونخوا میں، فاٹا میں جو اللہ پاک نے ہمیں نعمتیں دی ہیں ان پہ وہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور بالکل بندوق کے زور پہ وہ لوٹنا چاہتے ہیں۔ کوئی گناہ نہیں کیا، نہ وزیرستان میں کسی نے کوئی گناہ کیا ہے، نہ باجوڑ میں کسی نے کوئی گناہ کیا ہے، فاٹا کو جس انداز میں، ایک منٹ میں،میں اسمبلی میں بیٹھا ہوا تھا، نہ اسمبلی کے اس فورم پہ یہ لکھا تھا کہ فاٹا کو ضم کیا جا رہا ہے، نہ پروگرام میں تھا، یہ اسپیکر آیا اس نے اعلان کیا کہ جی، بس فیصلہ ہوا ہے کہ فاٹا کو خیبر پشتونخوا میں شامل کیا جائے۔
جس انداز میں شامل کیا گیا، وہ، ہم نے مخالفت کی تھی۔ قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ جو ایمرجنسیاں لگی ہیں فلاں ضلعے میں، فلاں ضلعے میں، یہ غیر آئینی ہے، غیر قانونی ہے، غلط ہے، اور ناروا ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم بندوق نہیں اٹھائیں گے، ہم کسی کو ماں باپ کی گالیاں نہیں دیں گے، اور ہم کسی کو پتھر نہیں ماریں گے، لیکن یہ ہمارا پختہ فیصلہ ہے۔
اختر جان مینگل، سردار عطاء اللہ خان مینگل کے صاحبزادے ہیں اور ان کی اپنی پارٹی ہے۔ یہ ان کے سیکرٹری صاحب ہیں، سید صاحب کے نواسے ہیں، ان کی بھی اپنی پارٹی ہے۔
علامہ صاحب اور ہم سب، تحریک تحفظ آئین پاکستان کا حصہ ہیں جو ہماری مشترکہ پارٹی ہے۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مسائل اسی لیے پیدا ہو رہے ہیں کہ کہا جا رہا ہے کہ یہ لوگ مخالفت کر رہے ہیں۔ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بسم اللہ، اللہ اکبر! آئیں مذاکرات کریں۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کے حوالے سے دنیا بھر میں، امریکہ سے لے کر زمبابوے تک، کہیں بھی کسی قیدی کی ملاقات پر ایسی پابندی نہیں ہے۔
چاہے کوئی بدترین قاتل، ڈاکو، بدکار یا منشیات فروش ہی کیوں نہ ہو، اس کے وکیل، والدین، دوستوں اور ساتھیوں کو اس سے ملاقات کی اجازت ہوتی ہے، مگر عمران خان پر یہ پابندی عائد ہے۔
مزید ظلم یہ ہے کہ انہیں قید میں معاہدہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور کسی بھی قیدی کو معاہدے کے لیے مجبور کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ ماضی میں بالکل یہی سلوک اٹک جیل میں میاں محمد نواز شریف کے ساتھ بھی کیا گیا، جب انہیں ہتھکڑیاں لگا کر جہاز میں بٹھایا گیا اور دس سال کے لیے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
مگر بدقسمتی دیکھیے کہ آج میاں صاحب اور بے نظیر کی پارٹیاں اسی انداز میں خیبر پشتونخوا کی حکومت پر حملہ آور ہیں جیسے اس سانپ نے کیا تھا جس نے کبھی انہیں ڈسا تھا۔ خیبر پشتونخوا کی یہ واحد حکومت تھی جو عوام کی طاقت سے بنی تھی، اور یہی بات انہیں کھٹکتی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج میاں صاحب اور بے نظیر کی پارٹی، جس سانپ نے انہیں ڈسا تھا، اسی انداز میں خیبر پشتونخوا پر حملہ آور ہوئی ہیں۔ یہ واحد حکومت تھی جو عوام کی طاقت سے بنی تھی۔
یہ بات انہیں کھٹکتی تھی اور انہوں نے کسی نہ کسی طریقے سے اس پر حملہ کرنا تھا، جو کہ انہوں نے کر دیا۔ ہم اس حملے کے خلاف آپ کے صوبے اور آپ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آئے ہیں، یہ ہمارا فیصلہ ہے۔ ہم آپ سے بھی اپیل کرتے ہیں۔ پرسوں یہاں باڑہ میں معصوم بچوں پر گولیاں چلائی گئیں، آخر کیوں؟ ایک نہیں، بارہ تیرہ… ایک بچہ زخمی ہوا اور ایک بچہ شہید ہو گیا۔ کیا ہم نے بچے اس لیے پیدا کیے ہیں کہ آپ انہیں گولیاں ماریں؟ قرآن کریم کی آیت مبارکہ ہے کہ کسی کے خلاف بلند آواز میں غلط زبان استعمال کرنا درست نہیں، سوائے مظلوم کے، جسے یہ حق حاصل ہے۔ آپ مجھ سے میرا مینڈیٹ چھینیں، آپ میرے حقوق سلب کریں، اور مجھے جلسے جلوس کا موقع بھی نہ دیں۔ کیا آپ مجھے گولی ماریں گے؟ خدا کو مانیں اور اس ملک پر رحم کریں۔ یہ تو خوش قسمتی ہے کہ یہاں کے عوام نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ہم تمہاری بندوق کا جواب بندوق سے دیں گے۔جس دن یہ فیصلہ ہوگا، کچھ نہیں رہے گا، کچھ نہیں رہے گا، نہ پاکستان رہے گا نہ کچھ رہے گا۔رحم کریں پاکستان پر!اب بھی جو آرڈر تم لوگوں نے کیا ہے، پیچھے کر دیں۔ایک وزیر اعلیٰ کو آپ نے گرفتار کیا ہے، ایم این ایز، ایم پی ایز، کسی کو پتہ نہیں ہے۔کیوں؟ ایسے بے مالک ہو گیا ہے یہ وطن؟کہ ہمیں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارا وزیر اعلیٰ کہاں ہے؟
ہمیں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارے ایم این ایز کہاں ہیں؟ہمیں یہ بھی نہیں کہا جا رہا کہ ہمارے ایم پی ایز کہاں ہیں؟یہ ہمارا وطن ہے، مشترکہ وطن ہے۔
اس ملک پر رحم کریں۔ اب بھی آپ نے جو احکامات جاری کیے ہیں، انہیں واپس لے لیں۔پشتون وطن، پشتونوں اور یہاں کے رہنے والوں کا ہے۔ اگر آپ اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی سمیت سب کو ساتھ ملا کر چلیں۔ ان کے علاقوں میں ان کی صوبائی خود مختاری کا احترام کریں اور ان کی زبانوں کو عزت دیں۔ ایسا کرنے سے پاکستان ایک بہترین ملک بن جائے گا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم لڑنے والے لوگ ہیں، لیکن اپنے ہی لوگوں کے خلاف بندوق اٹھانا مشکل ہے، لیکن کب تک؟
مثال کے طور پر، اگر وزیرستان میں سونا ملتا ہے، تو بسم اللہ، دو چار بھینسیں ذبح کر دو، خیرات کرو، ڈھول بجاؤ کہ ہمارے علاقے میں سونا نکل آیا ہے۔ اس پر وزیرستان کے عوام کا حصہ رکھو، ہم آپ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ آپ اسے چین، امریکہ، یا روس کو بیچتے ہیں، ان کا حصہ انہیں دو، ہمیں ہمارا حصہ دو، ہم آپ کے لیے کام کریں گے۔ہمارے فاٹا کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ”نو مینز لینڈ” (No Man’s Land) ہے۔ یہ ہمارے لوگوں کے ساتھ مذاق ہے، پشتونخوا وطن کا ایک ایک پتھر قبیلوں اور خاندانوں میں تقسیم شدہ اور تسلیم شدہ ہے۔ یہاں تک کہ بوڑھی عورتوں کو بھی معلوم ہے کہ کس پہاڑی کے پیچھے ان کے قبیلے کی زمین نہیں ہے اور کس پہاڑی تک ان کی زمین کی حدود ہیں۔
کیا آپ اس وطن پر بندوق کے زور پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں؟ خدا کو مانیں۔ اس سرزمین پر سکندر، مغل اور منگول ڈوبے ہیں۔ یہاں انگریزوں کی قبریں بنی ہیں اور وہ بڑی مشکل سے یہاں سے نکل پائے ہیں۔ امریکہ اور روس کا جو حشر یہاں ہوا ہے، خدارا اپنی افواج کا وہ حشر نہ کریں۔ اس ملک پر رحم کریں۔قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے وطن پہ غیر آئینی ،غیر قانونی حملہ ہوا ہے۔ اور اس کے پیچھے۔۔ ارادہ یہ ہے کہ یہاں آپ نے پتہ نہیں امریکہ کو بیچ دیئے ہمارے مائنز، منرلز، ہمارے جنگل، ہمارے وہ۔
جس کو بھی بیچے، ان کو بھی ہم کہتے ہیں۔ امریکہ کو بھی ہم ریکویسٹ کرتے ہیں۔ امریکہ بابا، چین، امریکہ، روس۔ ہم اس وطن کے مالک ہیں۔ ہمیں پوچھے بغیر جن کے ساتھ بھی معاہدہ کریں گے، ہمیں قبول نہیں ہوگا۔ وزیرستان کے منرلز، وزیرستان کے لوگوں کے ہیں۔ خیبر کے مائنز اور منرلز وہاں کے آفریدیوں، ملاگوری، شنواریوں کے ہیں۔ باجوڑ کے منرلز ان کے ہیں۔ بلوچ وطن کے، بلوچوں کے ہیں۔ سندھی وطن کے سندھیوں کے ہیں۔ ہاں! پاکستان کو بنائیں۔ ہم صرف اس لئے آپ کے پاس آئے تھے کہ آپ اس جدوجہد میں اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم نے کوشش کرنی ہے، مائنز، منرلز پہ، پانیوں پہ، ارادہ یہ ہے، انہوں نے ہمارے پانیوں پہ قبضہ کرنا ہے۔ آپ کو پتہ ہے۔ یہ جو بڑا پل ہے خیر آباد کا، یہاں سے اباسین، ڈیڑھ سو میل پشتونخوا وطن میں بہتا بہتا، پنجند میں گرتا ہے۔ سارا خٹک، سارا گنڈاپور، سارا وہ جو اکوڑہ خٹک، اتنا بڑا دریا بہتا ہے، ہمیں اس سے پانی لینے کی اجازت نہیں ہے۔ پانی لینے کی، خٹک اباسین کے بڑے اباسین کے کنارے پہ ہے لیکن وہ دعا کرتا ہے بارش کے لئے۔ کہ خدایا بارش ہو تاکہ میرا چنا اگ آئے۔ یہ ظلم ہے۔ دنیا کا جو دریا، جہاں سے گزرتا ہے، پہلا حق ان کے لوگوں کا ہے۔ یہاں ایک نظام بن رہا ہے، جو ہمارے پانیوں پہ، جو ہمارے اس پہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ جو خیرآباد کا بڑا پل ہے، یہاں سے دریائے اباسین (سندھ) ڈیڑھ سو میل تک پشتونخوا وطن میں بہتا ہوا پنجاب میں جا گرتا ہے۔ سارا خٹک، سارا گنڈا پور، اور اکوڑہ خٹک کا علاقہ اسی کے کنارے آباد ہے۔
ہمارے ہاں سے اتنا بڑا دریا بہتا ہے مگر ہمیں اس سے پانی لینے کی اجازت نہیں ہے۔ خٹک، دریائے اباسین کے کنارے پر آباد ہونے کے باوجود بارش کے لیے دعا کرتا ہے کہ خدایا بارش ہو تاکہ میری چنے کی فصل اگ سکے۔ یہ ایک صریح ظلم ہے۔ دنیا کا اصول ہے کہ دریا جس علاقے سے گزرتا ہے، اس پر پہلا حق وہاں کے لوگوں کا ہوتا ہے۔
یہاں ایک ایسا نظام بنایا جا رہا ہے جو ہمارے پانیوں اور ہمارے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔آج بھی پشتونخوا وطن کے ہزاروں لوگ دیارِ غیر میں مسافر ہیں۔ دنیا کا سب سے سستا مزدور پشتونخوا وطن کا ہے۔ شاید پوری دنیا نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ پشتون مزدوروں کو ہمارے پاس بھیجو۔ ہم نے دبئی بنایا، ہم نے سعودی عرب تعمیر کیا، ہم نے کراچی بنایا، ہم نے لاہور بنایا، اور ہم نے پاکستان کی تمام نہریں بنائیں۔ اس سب کے باوجود، پھر بھی ہمیں اچھا پاکستانی نہیں سمجھا جا رہا۔قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ شاید سب دنیا نے فیصلہ کیا ہوگا کہ پشتون مزدور ہمارے پاس بھیجو۔ ہم نے دبئی بنایا، ہم نے سعودی عرب بنایا، ہم نے کراچی بنایا، ہم نے لاہور بنایا، ہم نے پاکستان کی تمام نہریں بنائیں، پھر بھی ہمیں اچھا پاکستانی نہیں سمجھا جا رہا۔
آج بھی بدترین نام ہمیں دیے جا رہے ہیں؛ ہیروئن فروش، قاتل، بچوں کو اغوا کرنے والا وغیرہ۔ یہ سب باتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ایک ملک اور وطن کی حیثیت سے ہم متحد ہوں۔ آپ جس پارٹی میں بھی ہیں، زندہ باد۔ آپ مسلم لیگ میں ہیں، تمام گاؤں پر مسلم لیگ کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ آپ پیپلز پارٹی میں ہیں، اپنا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ آپ تحریک انصاف میں ہیں، بسم اللہ۔ لیکن ہم ایک وطن کے رہنے والے ہیں۔ ہماری عزت اور خدانخواستہ بے عزتی، اس وطن کی عزت سے منسلک ہے۔ اگر یہ وطن باعزت ہوگا، تو ہر پارٹی باعزت ہوگی۔ اگر اس وطن میں ہم بااختیار ہوں گے، تو ہم سب باعزت ہوں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوگا، تو ہم مسافر ہوں گے اور تمام دنیا کے مزدور ہوں گے۔









