کراچی میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے کیس میں ضلعی پولیس اور اسپیشل انوسٹیگیشن یونٹ میں تصادم ہوگیا۔
کراچی کے ضلع وسطی میں ایک تاجر اور بچے کو اغوا کرنے کے مقدمے میں ایک ملزم کو تیموریہ تھانے کی پولیس نے گرفتار کیا جس نے دوران تفتیش مزید 4 ملزمان کی نشاندہی کی۔
تیموریہ پولیس نے ناظم آباد تھانے میں اندراج کرکے ملزمان کو ایک عمارت سے گرفتار کیا لیکن یہاں اچانک اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی ٹیم پہنچی اور ملزمان کو پولیس سے اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کی جس پر دونوں ٹیموں میں تصادم ہوگیا اور عوام جمع ہوگئی۔
تیموریہ پولیس ملزمان کو لے کر تھانے پہنچ گئی لیکن معاملہ یہاں نہیں رکا بلکہ دوسری طرف ایس آئی یو کی ٹیم سینٹرل پولیس کے افسران کو اٹھا کر اپنے سیل لے گئی جنہیں بعد میں افسران کی مداخلت کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ اس دوران ڈی ایس پی شادمان منہاج الحسن اور اے ایس آئی راحیل زخمی ہوگئے۔
سینٹرل پولیس کے سینیئر افسر کی ہدایت پر ایس آئی یو کے کچھ افسران کو حراست میں لیا گیا لیکن بعد میں چھوڑدیا گیا۔
پولیس کے 2یونٹس میں تصادم کی وجہ جاننے کی لیے انکوائری ڈی آئی جی ساؤتھ کررہے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس تصادم کے دوران ایک ملزم فرار بھی ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق فرار ہونے والا ملزم ایس آئی یو پولیس کا مخبر بھی تھا۔









