جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، حاجی ظفر اللہ خان کاکڑ اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی چیکنگ کے نام پر غریب عوام کو تنگ کرنے، بلاجواز جرمانے عائد کرنے اور مبینہ طور پر مالی استحصال کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی نے پہلے ہی عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، ایسے میں رکشہ ڈرائیوروں، مزدوروں، محنت کشوں اور موٹر سائیکل پر روزگار یا ضروری امور کے لیے سفر کرنے والے شہریوں کو غیر ضروری چیکنگ کے ذریعے پریشان کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ قانون کی عملداری اور ٹریفک نظم و ضبط برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن اس کی آڑ میں شہریوں کو ہراساں کرنا، بلاجواز روکنا اور جرمانوں کے لیے مبینہ طور پر مخصوص اہداف مقرر کرنا قانون کے مقصد کے منافی ہے۔
انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیکنگ کے دوران بعض پولیس اہلکاروں کی جانب سے چہرے چھپا کر کارروائی کرنے اور شہریوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جن کا متعلقہ حکام فوری نوٹس لیں اور ایسے اقدامات کی شفاف تحقیقات کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چالان کرنا ضروری ہو تو واضح قانونی خلاف ورزی، مقررہ ضابطے اور شفاف طریقہکار کے تحت کیا جائے، نہ کہ غریب شہریوں کو آمدنی کا ذریعہ سمجھ کر ان پر جرمانوں کا بوجھ ڈالا جائے۔
رکشہ ڈرائیور اور موٹر سائیکل سواروں کی بڑی تعداد روزانہ محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتی ہی؛ ان کی معمولی آمدنی سے بلاجواز جرمانے وصول کرنا ان کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے صوبائی حکومت، محکمہ پولیس اور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ چیکنگ کے نام پر عوام کو ہراساں کرنے کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے، مبینہ ٹارگٹڈ جرمانوں کی تحقیقات کی جائیں، اہلکاروں کو قانون اور شہریوں کے احترام کا پابند بنایا جائے اور عوام کو غیر ضروری پریشانی سے نجات دلائی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام قانون کی پاسداری اور ٹریفک نظم و ضبط کی حامی ہے، تاہم قانون کے نام پر غریب عوام کے ساتھ ناانصافی اور ان کے معاشی استحصال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔









