مغوی جج اسد اللہ رئیسانی کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں، بلوچستان حکومت

37

انسانی حقوق کی تنظیم، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بلوچستان کے ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی کی مبینہ گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے ان کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایچ آر سی پی کے بیان کے مطابق جج اسداللہ رئیسانی 6 اکتوبر 2026 کو کوئٹہ سے پنجگور کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم اہلِ خانہ کے مطابق سوراب کے علاقے سے گزرتے ہوئے ان سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اسداللہ رئیسانی کے ٹھکانے کا تعین کریں اور ان کے اہلِ خانہ کو تمام پیش رفت سے باخبر رکھیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور جج اسداللہ رئیسانی کی محفوظ بازیابی کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جانے چاہییں۔

جمعے کے روز وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات سے ایڈیشنل سیشن جج پنجگور کی بازیابی سے متعلق پیش رفت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مغوی جج کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور جیسے ہی اس حوالے سے کوئی اہم پیش رفت سامنے آئے گی، میڈیا کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں