ثقافت و کلچر کے نام پر منعقد ہ تقریبات میں معاشرتی اخلاقی و تہذیبی اقدار کا احترام یقینی بنایا جائے،مولانا عبدالرحمن رفیق

14

جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد محمد حسنی، مولانا سعید احمد، حافظ سراج الدین، مفتی محمد روزی خان بادیزئی، مولانا محمد شعیب جدون، رحیم الدین ایڈووکیٹ اور مولانا محمد عارف شمشیر نے کہا ہے کہ فیشن اور ثقافت کے نام پر حیا و عفت کی پامالی اور قابلِ اعتراض حرکات کو فروغ دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

قوم کی بیٹیوں کو نامناسب انداز میں رقص کرانے یا ان کی عزت و وقار کو مجروح کرنے کے عمل کو ثقافت کا نام دینا نہ صرف ہماری تہذیبی اقدار کے منافی ہے بلکہ قومی ثقافت کے حقیقی تشخص کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

بلوچستان میں آباد تمام اقوام کی اپنی اپنی روایات اور ثقافتی خصوصیات ضرور ہیں تاہم حیا غیرت شرافت رواداری احترامِ انسانیت اور مہمان نوازی وہ مشترکہ اقدار ہیں جو اس خطے کی اجتماعی تہذیبی شناخت کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ثقافت کے نام پر اخلاقی حدود پامال کرنا باعثِ شرم اور ہماری تہذیبی اقدار کی توہین ہے۔ رقص و سرور اور فحاشی کو ثقافت سے جوڑنا ہماری صدیوں پر محیط روایات اقدار اور تہذیبی ورثے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ثقافت وہی ہے جو معاشرے کی مثبت اقدار تہذیبی روایات اور اجتماعی شناخت کو اجاگر کرے نہ کہ حیا وقار اور اخلاقی حدود کو مجروح کرے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت اور کلچر کے نام پر منعقد ہونے والی تقریبات میں معاشرتی اخلاقی اور تہذیبی اقدار کا احترام یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ایسے عمل کی حوصلہ شکنی کی جائے جو معاشرے میں بے حیائی یا اخلاقی بے راہ روی کے فروغ کا سبب بنے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں