سیوی میں پیپلز ریلوے ورکرز کا یومِ سیاہ، رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز کے خلاف احتجاج

36

پیپلز ریلوے ورکرز کوئٹہ کی کال پر رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز بلوچستان کے خلاف سیوی میں بھی یومِ سیاہ منایا گیا، ریلوے کے مزدوروں نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا اور اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔احتجاج کے دوران مزدوروں کا کہنا تھا کہ گزشتہ 21 سال سے ریلوے ورکرز کوآپریٹو سوسائٹی کے معاملات مسلسل التوا کا شکار ہیں اور ان کے مطابق رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز بلوچستان کی مبینہ ملی بھگت سے پلاٹ مافیا نے سوسائٹی پر بے جا قبضہ کر رکھا ہے۔

مزدوروں نے الزام عائد کیا کہ 21 سال گزرنے کے باوجود سوسائٹی کے انتخابات نہیں کرائے جا رہے، جبکہ سابقہ مینجمنٹ نے مبینہ طور پر رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز بلوچستان کی ملی بھگت سے بائی لاز میں غیر قانونی ترامیم کر کے ریلوے مزدوروں کی رکنیت کی حیثیت بھی ختم کرا دی۔

مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایسی سوسائٹی، جو ریلوے کے محنت کشوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے قائم کی گئی تھی، اسے گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل ایکسٹینشن پر چلایا جا رہا ہے، جو ان کے بقول مزدوروں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

پیپلز ریلوے ورکرز کے رہنماں اور مزدوروں نے مطالبہ کیا کہ سوسائٹی کے معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا نوٹس لیا جائے، سوسائٹی کے انتخابات فوری طور پر کرائے جائیں، مزدوروں کی رکنیت بحال کی جائے اور سوسائٹی کے معاملات کو شفاف بنایا جائے۔مظاہرین نے واضح کیا کہ ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں