جب تک دنیا پر چند طاقتوں کی بالادستی، دوہرے معیار اور مداخلت پسندانہ پالیسیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک حقیقی عالمی امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا،،مولانا عبدالرحمن رفیق

19

جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، مولانا حفیظ اللہ، مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مینگل، مولانا عبدالبصیر، حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد فاروقی اور حاجی نعمت اللہ اچکزئی نے کہا ہے کہ دنیا میں امن و امان کی تباہی اور مختلف خطوں میں جاری بدامنی کے پیچھے امریکی بالادستی اور اس کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کا بنیادی کردار ہے، امریکہ نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں جنگوں، سیاسی عدم استحکام اور معاشی دباؤ کو فروغ دیا، جس کے منفی اثرات آج بھی پوری دنیا کو بھگتنا پڑ رہے ہیں، پاکستان میں جاری شورش اور بدامنی کے حوالے سے بھی امریکہ کی پالیسیوں اور خطے میں اس کے تزویراتی مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، عالمی طاقتوں کو طاقت کے بجائے انصاف، خودمختاری اور باہمی احترام کے اصولوں کو ترجیح دینا ہوگی، فلسطین، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جاری بحرانوں کا مستقل حل طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی، سفارتی اور منصفانہ طریقہ کار سے ہی ممکن ہے، رہنماؤں نے کہا کہ جب تک دنیا پر چند طاقتوں کی بالادستی، دوہرے معیار اور مداخلت پسندانہ پالیسیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک حقیقی عالمی امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا، پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات، ملکی خودمختاری اور خطے کے امن کو سامنے رکھتے ہوئے تشکیل دینی چاہیے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں بدامنی کے خاتمے کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مذاکرات، آئین و قانون کی بالادستی، عوام کے بنیادی حقوق اور محرومیوں کے ازالے کو یقینی بنایا جائے، جمعیت علماء اسلام ہر قسم کی دہشت گردی، انتہاپسندی اور بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے ملک میں امن، سیاسی استحکام، جمہوری تسلسل اور قومی وحدت کے لیے اپنا مثبت اور اصولی کردار ادا کرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں