سول ہسپتال کوئٹہ سے 22.825 ملین روپے کی ادویات غائب، وضاحت اور ریکارڈ نہ دیا گیا تو معاملہ نیب کو بھیجیں گے، پی اے سی

22

بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے سنڈمن پراونشل سول ہسپتال کوئٹہ میں کروڑوں روپے کی ادویات کی خریداری میں بے ضابطگیوں، مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات کے غائب ہونے اور مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ ریکارڈ 15 روز میں کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں اراکین فضل قادر مندوخیل، محمد خان لہڑی، صفیہ فضل، رحمت صالح بلوچ اور ولی محمد نورزئی، سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈی جی آڈٹ شجاع علی، اسپیشل سیکرٹری محکمہ صحت شہیک بلوچ، اسپیشل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر ہادی، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر امین اور دیگر افسران نے شرکت کی۔پی اے سی چیئرمین اصغر علی ترین نے خبردار کیا کہ سرکاری ادویات کی گمشدگی اور ریکارڈ میں بے ضابطگیوں سے متعلق تسلی بخش وضاحت اور مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیا گیا تو معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوانے یا ایف آئی آر درج کرانے کی سفارش پر غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں سینڈمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ کے اسپیشل آڈٹ سال2022-23 کے پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال2017-18سے2021-22 کے دوران سینڈمن پراونشل سول ہسپتال کوئٹہ کے لیے 10,443 ملین روپے مختص/فراہم کیے گئے، جن میں سے 9,576 ملین روپے خرچ کیے گئے،

تاہم محکمہ صحت اور ہسپتال حکام اخراجات کا مکمل حساب کتاب اور مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔چیئرمین اور اراکین کمیٹی نے محکمہ صحت کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ بروقت فراہم نہ کرنے اور پی اے سی کی سابقہ ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے محکمہ صحت صرف اپنا مؤقف کمیٹی کے سامنے بیان کررہا ہے،

رولز اور ریگولیشنز پر عملدرآمد نہیں ہورہا، جو اسمبلی اور پی اے سی کو اہمیت نہ دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کمیٹی کی متعدد ہدایات کے باوجود آڈٹ پیراز پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آئینی اور قانونی طور پر حاصل اختیارات کا مقصد سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے، تاہم محکمہ صحت کی جانب سے کمیٹی کو سنجیدگی سے نہ لینے کا تاثر پیدا ہورہا ہے۔اجلاس میں 30.016 ملین روپے مالیت کی ادویات کی خریداری سے متعلق آڈٹ پیرا بھی زیر غور آیا۔ خصوصی آڈٹ کے مطابق ادویات کی خریداری میں اہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی۔

آڈٹ کے مطابق ادویات کا سپلائی آرڈر M/s FDL، پشاور کے نام جاری کیا گیا جبکہ ادائیگی M/s Health Tech، کوئٹہ کو کی گئی۔ آڈٹ نے سپلائی آرڈرز اور بلوں میں فرق کے علاوہ اسٹاک رجسٹر میں اندراجات کے فقدان، ڈلیوری چالان اور انسپیکشن رپورٹس کی عدم دستیابی پر بھی اعتراض اٹھایا۔آڈٹ کے مطابق معاملہ 10 مئی 2023 کو محکمہ کو رپورٹ کیا گیا تاہم محکمہ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بعدازاں 23 اکتوبر 2023 کو منعقدہ ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) کے اجلاس میں محکمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ M/s FDL مینوفیکچرنگ ایجنسی جبکہ M/s Health Tech اس کی مجاز ڈسٹری بیوٹر ہے، جس نے FDL کی جانب سے ادویات فراہم کرکے ادائیگی وصول کی۔ڈی اے سی نے تمام متعلقہ ریکارڈ آڈٹ کو فراہم کرنے کی ہدایت کی، تاہم ریکارڈ کی تصدیق کے دوران M/s FDL کی رضامندی، اسٹاک رجسٹر، ڈلیوری چالان، انسپیکشن رپورٹس، ادویات کی کھیپ، بیچ نمبرز اور دیگر مطلوبہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

چیئرمین پی اے سی نے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے وقت اور اختیارات کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو تمام مطلوبہ ریکارڈ مکمل کرکے 15 روز کے اندر کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں مالی سال2019-20 کے دوران مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات غائب ہونے سے متعلق آڈٹ پیرا کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔آڈٹ کے مطابق GFR 151 Vol-I کے تحت اسٹورز کے ذمہ دار افسر پر سرکاری اسٹورز کی محفوظ تحویل، مناسب دیکھ بھال، مکمل ریکارڈ، انوینٹری اور اسٹاک کے درست حساب کو یقینی بنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تاکہ چوری، نقصان، فراڈ یا دیگر وجوہات سے سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکا جاسکے۔خصوصی آڈٹ کے مطابق مالی سال2019-20 کے دوران 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات مرکزی اسٹور سے غائب پائی گئیں۔

فارماسسٹ انچارج کی جانب سے معاملہ انتظامیہ کے علم میں لانے کے باوجود اسے حل نہیں کیا گیا جبکہ ڈلیوری چالان اور انسپیکشن کمیٹی کی رپورٹس بھی سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں تھیں۔محکمہ نے ڈی اے سی اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ مرکزی اسٹور سے کوئی ادویات غائب نہیں ہوئیں اور آڈٹ تصدیق کے لیے بعض ریکارڈ فراہم کیا گیا، تاہم ریکارڈ کی جانچ کے دوران اسٹاک رجسٹر کے ابتدائی اور اختتامی بیلنس میں تضادات سامنے آئے۔

انتظامیہ ان تضادات کی تسلی بخش وضاحت فراہم نہ کرسکی جبکہ اسٹاک رجسٹر میں بعض اندراجات بعد از تاریخ کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے کہا کہ صرف ملازمین کو معطل کرنا مسئلے کا حل نہیں، اصل ذمہ داری کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔پی اے سی اراکین فضل قادر مندوخیل، محمد خان لہڑی، صفیہ فضل، رحمت صالح بلوچ اور ولی محمد نورزئی نے بھی معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ آڈٹ پیرا پر کمیٹی کا یہ چوتھا اجلاس ہے جبکہ محکمہ صحت کو پہلے بھی متعدد مواقع فراہم کیے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر 2025 میں بھی محکمہ کو مہلت دی گئی تھی تاہم تاحال مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ محکمہ صحت پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آرہے۔ انہوں نے محکمہ صحت کی کارکردگی کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف سوشل میڈیا یا ٹک ٹاک پر سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں جبکہ زمینی صورتحال مختلف ہے۔انہوں نے بعض معطل ملازمین کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ وہ اب بھی دفاتر میں حاضری دے رہے ہیں، جو محکمہ کی انتظامی کمزوری اور احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔اصغر علی ترین نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ اگر محکمے مکمل تیاری کے ساتھ اجلاس میں شرکت نہیں کرتے تو کمیٹی کے کام کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا مشکل ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ اس طرح اجلاس نہیں چلایا جائے گا۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ صورتحال سے متعلق چیف سیکرٹری بلوچستان کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا جبکہ رپورٹ اور معاملہ بلوچستان اسمبلی میں بھی پیش کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کی ہدایت پر محکمہ صحت کو دونوں آڈٹ پیراز سے متعلق تمام مطلوبہ ریکارڈ، وضاحتیں اور دستاویزات مکمل کرکے 15 روز کے اندر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں