بلوچستان میں جاری بدامنی نے معمولات زندگی کومفلوج کرکے رکھ دیا ہے،مولانا واسع

24

جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے صوبے کی ابہتر اور تشویشناک صورتحال پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری بدامنی نے معمولاتِ زندگی کو عملا مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔

تعلیمی سرگرمیوں سے لے کر سرکاری امور، معیشت، تجارت، زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور روزگار تک زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو ان سنگین حالات سے متاثر نہ ہو رہا ہو، جبکہ عوام، تاجر، طلبہ، ملازمین، زمیندار اور ٹرانسپورٹر سمیت ہر طبقہ عدم تحفظ اور غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئے روز دہشت گردی کے واقعات، قومی شاہراہوں کی بندش، قتل و غارت گری اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے واقعات نے بلوچستان کے عوام کو شدید ذہنی اذیت، معاشی نقصان اور مستقبل کے حوالے سے گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

یہ صورتحال محض امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ صوبے کے سیاسی، معاشی، سماجی اور انتظامی مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اس غیر یقینی اور بحرانی صورتحال کی بنیادی وجوہات میں عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرکے انتخابات سے قبل نجی ہوٹلوں میں منصوبہ سازوں کی مرضی سے تشکیل پانے والی غیر عوامی اور غیر نمائندہ حکومت بھی شامل ہے، جس نے اقتدار میں آنے کے باوجود عوامی مسائل کے حل اور امن و امان کی بحالی کے لیے سنجیدہ، مثر اور نتیجہ خیز اقدامات نہیں کیے۔

مصنوعی سہاروں پر قائم حکومت کا موجودہ سنگین حالات میں بھی لاتعلقی اور سردمہری کا مظاہرہ ناقابلِ فہم اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے روزِ اول ہی سے اس امر کی نشاندہی کردی تھی کہ عوامی اعتماد سے محروم اور غیر فطری سیاسی بندوبست بالآخر صوبے کو مزید بحرانوں کی طرف لے جائے گا، اور آج کے حالات ان خدشات کی واضح تصدیق کر رہے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام نے اپنے تمام سیاسی تحفظات کے باوجود ہمیشہ بلوچستان کو بحرانوں سے نکالنے، امن کے قیام، سیاسی استحکام اور عوامی مفاد کے لیے حکومت کو تعاون کا ہاتھ بڑھایا، مگر افسوس کہ حکمرانوں نے اس مثبت طرزِ عمل کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ روش اختیار کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے موجودہ بحران کا حل نمائشی اقدامات، عارضی انتظامات اور طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ عوام کے حقیقی مینڈیٹ کا احترام، سیاسی قوتوں سے بامعنی مشاورت، آئین و قانون کی بالادستی، امن و امان کی مثر بحالی اور عوام کو ان کے بنیادی سیاسی، معاشی اور انسانی حقوق کی فراہمی میں ہے۔

اگر حکومت نے اب بھی زمینی حقائق کا ادراک نہ کیا اور اپنی روش تبدیل نہ کی تو موجودہ بحران مزید گہرا ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور متعلقہ ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں