سریاب کی رہائشی بی بی کلثوم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف جسٹس بلوچستان جسٹس کامران ملا خیل ، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر سے اپیل کی ہے کہ ہمارے رشتہ دار شاہ زین اور فائق نامی نوجوان ہماری ذاتی میری اور میری والدہ ، بہن کی تصاویر سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک پر ہمارے نام سے جعلی آئی ڈی بناکر بلیک میل کررہے ہیں۔
بلوچستان قبائلی صوبہ ہونے کے باوجود ہمیں ایف آئی اے سائبر کرائم اور متعلقہ اداروں سے انصاف نہیں ملا آپ ہمیں انصاف اور تحفظ دیکر ان کے خلاف کارروائی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دیں۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کی شام اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ 2 ماہ قبل ہمارے گھر میں میری بہن کی منگنی کے پروگرام میں عزیز و اقارب کو دعوت دی گئی تھی جس میں ہمارا دور کا رشتہ دار شاہ زین بھی آیا اور میرے بھائی کے موبائل سے میری اور والدہ سمیت میری بہن کی گھر کی تصویریں لے گیا اور اس کے بعد اس سے اپنے ایک ساتھی فائق کے ساتھ ملکر میرے اور میری بہن کے نام سے سوشل میڈیا جعلی آئی اور ٹک ٹاک بناکر ہمارے گھریلو تصاویر پوسٹ کرکے ہمیں بلیک میل کرکے ہمارے ساتھ رشتہ جوڑنا چاہتا ہے ہم نے اس کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم میں درخواست دی ہے تا حال کوئی شنوائی نہیں ہوئی بلوچستان جیسے قبائلی صوبے میں خواتین کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن ہمیں بلیک میل کرکے ہماری عزت خراب کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ہمیں شدید ذہنی اذیت اور کوفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تا حال ہمیں کسی بھی سرکاری ادارے سے کوئی تعاون حاصل نہیں ہوا کہ ملزمان کو قانون کے شکنجے میں جکڑا جاسکے وہ آئے روز ہماری تصاویر پوسٹ کرکے ہمیں تنگ کررہے ہیں اس لئے ہماری وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف جسٹس بلوچستان، آئی جی پولیس سے اپیل ہے کہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیکر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لاکر ہمیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے نام سے 3,4 جعلی اکائونٹس بنائے ہیں اور اب ہمیں ہمارے بھائی کو مارنے اور نقصان پہنچانے کی دھمکی دے رہے ہیں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شاہ زین ہمارے ساتھ رشتہ جوڑنا چاہتا ہے کیونکہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے انکار پر وہ ہمیںبلیک میل کرنے کے لئے یہ سب کچھ کررہا ہی









