شوگر ملوں نے 2018ء سے 2020ء تک غلط اعداد و شمار سے 53ارب کا اضافی منافع کمایا

29

شوگر ملوں نے 2018ء سے 2020ء تک پیداواری لاگت کے غلط اعداد و شمار سے 53ارب کا اضافی منافع کمایا ،18ارب روپے کا کارپوریٹ ٹیکس بھی بچا،2020ء تک حکومت سے چینی برآمد کرنے کے لئے 4ارب 12کروڑ کی سبسڈی بھی لی گئی۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال حکومت نے پہلے ساڑھے 7لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی تو صارفین 120روپے کلو والی چینی 200روپے سے زائد میں خریدنے پر مجبور ہوئے، قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے 3لاکھ میٹرک ٹن چینی ٹیکس اور ڈیوٹی معاف کر کے درآمد کی گئی مگر قیمتیں کم ہوئیں نہ درآمدی چینی فروخت ہو سکی، اب حکومت دوبارہ 1لاکھ 8ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کرچکی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اسلام آباد میں چینی 55روپے، خضدار میں 56، کوئٹہ میں 58، پشاور میں 72، فیصل آباد میں 52، لاہور میں 44، سیالکوٹ میں 49، حیدرآباد میں 57، سکھر میں 64اور کراچی میں چینی 55روپے کلو مہنگی فروخت ہوتی رہی۔

آڈٹ حکام نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بتایا کہ اس من مانی سے عوام پر 300ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑا جبکہ مسابقتی کمیشن کے مطابق شوگر ملز نے 13فیصد اضافی پیداوار کا جھوٹا ڈیٹا دے کر چینی برآمد کی۔

57لاکھ میٹرک ٹن کی پیداوار کو 66لاکھ ظاہر کیا گیا۔ مالی سال 2019-20میں ملز مالکان کو 2ارب 47کروڑ روپے سبسڈی ملی۔رپورٹ کے مطابق 2015ء سے 2020ء کے درمیان چینی برآمد میں بڑے فراڈ کا پردہ چاک ہوا۔ افغانستان کو 23لاکھ 55ہزار میٹرک ٹن برآمد کا دعوی کیا گیا مگر ڈیٹا کے مطابق صرف 15لاکھ میٹرک ٹن چینی افغانستان پہنچی،7لاکھ 78ہزار میٹرک ٹن چینی کا ریکارڈ ہی غائب ہے۔

قیمتیں بڑھانے پر 38شوگر ملز کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے ایف آئی آرز درج کرائیں۔ ایف آئی اے کو شبہ تھا کہ قیمتیں بڑھا کر عوام سے 110ارب روپے بٹورے گئے،2018ء سے 2020ء تک پیداواری لاگت کے غلط اعداد و شمار سے 53ارب کا اضافی منافع کمایا گیا، ملز مالکان نے 18 ارب روپے کا کارپوریٹ ٹیکس بھی بچایا۔ دستاویز کے مطابق2020ء تک حکومت سے چینی برآمد کرنے کے لئے 4ارب 12کروڑ کی سبسڈی بھی لی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں