منگی ڈیم واقعہ کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن آف انکوائری بلوچستان کی کھلی عدالت میں سماعت ہوئی، جس کے دوران کمیشن نے آئی جی پولیس بلوچستان کی جانب سے پیش کردہ جامع رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد عامر نواز رانا نے قرار دیا کہ پیش کردہ رپورٹ کمیشن کے ٹی او آرز کے تقاضوں اور جاری کردہ ہدایات کے مطابق نہیں ہے۔ کمیشن نے آئی جی پولیس بلوچستان کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر نئی جامع رپورٹ اور تمام متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
کمیشن نے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو بھی آئی جی پولیس کی آئندہ سماعت پر ذاتی پیشی سے متعلق آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔
سماعت کے دوران زیارت، ہرنائی، لورالائی اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے کمیشن کو رضاکارانہ طور پر قانونی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ دوسری جانب واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے ورثاء نے اپنے بیانات ریکارڈ کرانے اور دستیاب شواہد کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
کمیشن نے لواحقین کی سہولت کے پیش نظر رجسٹریشن اور ناموں کے اندراج کی آخری تاریخ 28 اگست سے بڑھا کر 3 ستمبر کر دی ہے۔
عوام کو کمیشن کی کارروائی اور رجسٹریشن کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے ڈی جی پی آر کے ذریعے اخبارات اور وال پوسٹرز کے ذریعے آگاہی مہم بھی جاری ہے۔ کمیشن کا عوامی نوٹس معروف اردو اور انگریزی اخبارات کے صفحہ اول پر دوبارہ شائع کرایا گیا ہے۔
کمیشن آف انکوائری بلوچستان کی مزید کارروائی 27 اگست کو دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی گئی۔









