فلم ’کالا ہرن‘ تنازع: سلمان خان سے متعلق ہائیکورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج

32

فلم ’کالا ہرن‘ کے پروڈیوسر امیت جانی نے دہلی ہائیکورٹ کے اس عبوری حکم کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے، جس میں فلم کا ٹیزر اور دیگر تشہیری مواد ہٹانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ فلم پر الزام ہے کہ اس میں سلمان خان کی شخصیت اور زیرِ التوا کالے ہرن کے شکار کے مقدمے کو بنیاد بنا کر ان کے شخصی حقوق متاثر کیے گئے ہیں۔

دہلی ہائیکورٹ نے 27 جولائی کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے فلم سازوں کو ٹیزر سمیت متعلقہ تشہیری مواد فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ابتدائی طور پر قرار دیا تھا کہ مواد میں سلمان خان کے شخصی حقوق کی خلاف ورزی کے شواہد نظر آتے ہیں اور اس سے اداکار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

اب پروڈیوسر امیت جانی نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹیزر پر پابندی لگاتے وقت عدالت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس میں ایسا کون سا مخصوص مواد موجود ہے جو سلمان خان کی شخصیت کے غیر قانونی یا تجارتی استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔

پروڈیوسر کا مؤقف کیا ہے؟

امیت جانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ معاملہ محض ایک فلم کے ٹیزر تک محدود نہیں بلکہ اس میں آئینی اہمیت کا وسیع تر سوال بھی شامل ہے۔ پروڈیوسر کے مطابق اگر سلمان خان کے مؤقف کو قانونی طور پر ناقابلِ اعتراض تصور کرلیا گیا تو شخصی حقوق کو نجی سنسر شپ کے ذریعے تخلیقی اظہار روکنے کے لیے استعمال کیے جانے کا راستہ کھل سکتا ہے۔

درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اگر فلم سازوں کو شخصی حقوق کی بنیاد پر ایسے واقعات کی فنکارانہ عکاسی سے روکا گیا جو پہلے ہی عوامی معلومات اور مفاد کا حصہ ہیں تو اس کے اثرات آزاد فلم سازی، صحافت اور واقعات کی تخلیقی منظرکشی پر پڑ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں