کوئٹہ چمن سیکشن N-25پر کام سست روی کا شکار، عوام مشکلات سے دوچار ہیں ،پشتونخوامیپ

22

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی پریس ریلیز میں کوئٹہ چمن سیکشن (N-25) پر کام کی سست رفتار، کام کے معیار اور اراضی کے معاوضے کی عدم ادائیگی کے حوالے سے سنگین خدشات پر پارٹی انتہائی تشویش کا اظہار کرتی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ N-25 کے کوئٹہطچمن سیکشن پر کام کی رفتار کافی سست ہے، جبکہ متاثرہ زمینداروں کو اراضی کے معاوضے کی ادائیگی بھی تاخیر کا شکار ہے۔

یہ مسائل اس اہم تزویراتی قومی شاہراہ کے بروقت تکمیل میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور مقامی آبادی کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔جبکہ ممبر NHA بلوچستان، جناب بشارت حسین ملک، اور جی ایم جناب داؤد خان کی اپنے متعلقہ دفاتر اور منصوبے کی سائٹس سے طویل غیر حاضری بھی ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔

دونوں افسران زیادہ تر وقت اسلام آباد میں گزار رہے ہیں اور کوئٹہ کا دورہ بھی کبھی کبھار کرتے ہیں جبکہ منصوبے کے فیلڈ اور سائٹ کے دورے بھی مطلوبہ حد تک نہیں ہو رہے۔

اس کے نتیجے میں منصوبے کی پیش رفت، اراضی کے حصول اور معاوضے، کوالٹی کنٹرول، معاہداتی امور اور متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کاری سے متعلق اہم معاملات کو مطلوبہ عملی توجہ نہیں مل رہی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کی مؤثر نگرانی اور بروقت فیصلوں کے لیے اعلیٰ افسران کی سائٹ پر باقاعدہ موجودگی نہایت ضروری ہے، خصوصاً ایسے منصوبے پر جو اس قدر تزویراتی اہمیت کا حامل ہو۔

ذمہ دار افسران کی فیلڈ سے عدم موجودگی ٹھیکیداروں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے اور اہم مسائل کے حل میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔مزید برآں بعض مقامات پر کام کا معیار مطلوبہ معیار سے کم ہونے کی اطلاعات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ اگر تعمیر کے دوران ان خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور نہ کیا گیا تو منصوبے کی تکمیل کے بعد سڑک قبل از وقت خراب ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

لہٰذا یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ مؤثر اور مسلسل فیلڈ نگرانی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کام منظور شدہ ڈیزائن، وضاحتوں اور مقررہ معیار کے مطابق ہی انجام دیا جائے۔بیان میں وفاقی وزیر برائے مواصلات سے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مناسب انتظامی کارروائی پر غور فرمانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں ممبر NHA بلوچستان اور N-25 کے ذمہ دار جی ایم کا تبادلہ اور تعیناتی بھی شامل ہو۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اہم عہدوں پر ایسے باصلاحیت اور اہل افسران تعینات کیے جائیں جو بلوچستان کے مقامی حالات سے بخوبی واقف ہوں اور اپنے مقررہ اسٹیشنز پر موجود رہنے کے لیے آمادہ ہوں۔ ان افسران کی باقاعدہ فیلڈ میں موجودگی سے منصوبے کی نگرانی میں نمایاں بہتری آئے گی، کام کی رفتار تیز ہوگی، اراضی کے معاوضے اور دیگر زیرِ التوا معاملات کے بروقت حل میں مدد ملے گی اور کام کے معیار کو مؤثر طور پر یقینی بنایا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں