بلوچستان میں 2022 کے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور انٹیگریٹڈ فلڈ ریزیلینس اینڈ ایڈاپٹیشن پروگرام (آئی ایف آر اے پی) سے متعلق شائع ہونے والی خبروں کے تناظر میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کی بحالی قومی ترجیح ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں اس حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہیں۔
حکومت کے مطابق آئی ایف آر اے پی محض ہاؤسنگ منصوبہ نہیں بلکہ ایک جامع کثیر شعبہ جاتی بحالی پروگرام ہے، جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کے مختلف شعبوں کی بحالی اور مستقبل میں قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ 2022 کے سیلاب سے مکانات کے علاوہ آبپاشی، سڑکوں اور پلوں، صحت، تعلیم، آبنوشی و نکاسی آب، ہائیڈرومیٹ اور ابتدائی انتباہی نظام، روزگار و ذریعہ معاش، ہنرمندی اور نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ سمیت متعدد شعبے متاثر ہوئے تھے۔
اسی لیے آئی ایف آر اے پی کے تحت دستیاب وسائل کو تمام متاثرہ شعبوں کی ضروریات کے مطابق متوازن انداز میں استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ بلوچستان کی مجموعی، جامع اور پائیدار بحالی یقینی بنائی جا سکے حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئی ایف آر اے پی کے تحت بحالی کے اقدامات پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ (پی ڈی این اے)، ایکنک سے منظور شدہ منصوبے اور پی سی ون کے مطابق جاری ہیں۔
آئی ایف آر اے پی کو قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے 4 جنوری 2023 کو منظور کیا تھا، جس کا مقصد 2022 کے سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کے ان دس اہم شعبوں کی بحالی تھا جن کی نشاندہی پی ڈی این اے میں کی گئی تھی۔
منصوبے کی ایکنک سے منظور شدہ مجموعی لاگت 400 ملین ڈالر تھی۔ اس میں آبپاشی کے لیے 30 ملین ڈالر، سڑکوں اور پلوں کے لیے 50 ملین ڈالر، صحت کے لیے 5.7 ملین ڈالر، تعلیم کے لیے 5 ملین ڈالر، آبنوشی کے لیے 10 ملین ڈالر، ہائیڈرومیٹ کے لیے 50 ملین ڈالر، ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن کے لیے 155 ملین ڈالر، بلوچستان لائیولی ہڈز اینڈ ایمپلائمنٹ پراجیکٹ کے لیے 40 ملین ڈالر اور ایف پی ایم یو کے لیے 8.5 ملین ڈالر شامل تھے، جبکہ انٹرن شپ اور اسکل ڈویلپمنٹ بھی منصوبے کے منظور شدہ دائرہ کار کا حصہ ہیں۔
حکومت کے مطابق آئی ایف آر اے پی کے پہلے مرحلے میں ورلڈ بینک کی موجودہ فنانسنگ 245 ملین ڈالر ہے، جبکہ مختلف شعبوں کو دستیاب فنانسنگ ان کی منظور شدہ لاگت کے مطابق مختلف ہے۔
آبپاشی کے لیے منظور شدہ 30 ملین ڈالر کے مقابلے میں 25 ملین ڈالر، سڑکوں اور پلوں کے لیے 50 ملین ڈالر کے مقابلے میں 10 ملین ڈالر، صحت کے لیے 5.7 ملین ڈالر کے مقابلے میں ایک ملین ڈالر اور ہائیڈرومیٹ کے لیے 50 ملین ڈالر کے مقابلے میں 40 ملین ڈالر دستیاب ہیں۔ تعلیم کے لیے منظور شدہ 5 ملین ڈالر، آبنوشی کے لیے 10 ملین ڈالر اور بلوچستان لائیولی ہڈز اینڈ ایمپلائمنٹ پراجیکٹ کے لیے 40 ملین ڈالر کے مقابلے میں پہلے مرحلے میں فی الحال کوئی فنانسنگ دستیاب نہیں، جبکہ ایف پی ایم یو کے لیے منظور شدہ 8.5 ملین ڈالر کے مقابلے میں 8 ملین ڈالر دستیاب ہوئے ہیں۔
اس کے برعکس ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن کے لیے منظور شدہ 155 ملین ڈالر کے مقابلے میں 161 ملین ڈالر کی موجودہ فنانسنگ دستیاب ہے۔
حکومت کے مطابق پہلے مرحلے میں ہاؤسنگ واحد جزو ہے جسے اس کی منظور شدہ لاگت سے زیادہ فنانسنگ حاصل ہوئی ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ اس شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔
ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن کے دائرہ کار اور پیش رفت کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ ایکنک نے 2022 کے سیلاب سے مکمل طور پر تباہ ہونے والے 68,992 گھروں اور جزوی طور پر متاثر ہونے والے 58,016 گھروں کی بحالی کی منظوری دی تھی۔ ورلڈ بینک کی معاونت مکمل طور پر تباہ شدہ گھروں کے لیے ہے، جس کے تحت اہل مستفیدین کو فی گھر 4 لاکھ روپے چار اقساط میں براہ راست فراہم کیے جاتے ہیں۔
ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن یونٹ بلوچستان کے 10 اگست 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق 74,988 گھروں پر تعمیراتی کام شروع ہو چکا تھا جبکہ 26,357 گھر مکمل کیے جا چکے تھے۔
منصوبے کے مالک پر مبنی تعمیراتی ماڈل کے تحت 13 بائی 16 فٹ کا ایک کمرہ منصوبے کے معیار کے مطابق ایک گھر تصور کیا جاتا ہے مالی صورتحال کے حوالے سے حکومت نے واضح کیا کہ ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن کی منظور شدہ لاگت 155 ملین ڈالر تھی،
جس کی پاکستانی کرنسی میں مالیت تقریباً 34 ارب روپے بنتی ہے، جبکہ موجودہ فنانسنگ 161 ملین ڈالر ہے۔ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک ہاؤسنگ کے لیے 22.2 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 15.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور گھروں کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔
حکومت کے مطابق یہ بلوچستان میں حکومتی سرپرستی میں جاری اہم ترین عوامی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ دستیاب مالی ریکارڈ اس تاثر کی واضح نفی کرتا ہے کہ ہاؤسنگ کے لیے مختص مالی وسائل واپس لیے یا کم کیے گئے ہیں۔ ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن یونٹ کے مستفیدین کی تعداد کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار سامنے آنے پر حکومت نے واضح کیا ہے کہ تصدیق اور اہلیت دو الگ مراحل ہیں۔
کسی گھر کے سیلاب سے متاثر ہونے کی تصدیق لازماً اس خاندان کو مالی معاونت کا اہل قرار نہیں دیتی۔ اہلیت کا تعین مقررہ معیار، دستاویزات اور متعلقہ اداروں کے مشترکہ تصدیقی طریقہ کار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ عالمی بینک کی اگست 2026 کی مراسلت میں پہلے مرحلے کے 62,966 مستفیدین جبکہ وسیع تر سطح پر 119,049 تصدیق شدہ اور اہل خاندانوں کا ذکر کیا گیا ہے،
تاہم متعلقہ اداروں کے درمیان جاری مشترکہ تصدیقی عمل کے باعث یہ اعداد و شمار حتمی حیثیت نہیں رکھتے۔ اسی تناظر میں 134,000 خاندانوں کے اعداد و شمار کے حوالے سے حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ تعداد پی ڈی این اے، بنیادی منظور شدہ دستاویزات یا ایکنک سے منظور شدہ پی سی ون میں حتمی اہل ہاؤسنگ مستفیدین کے طور پر درج نہیں ہے۔
حکومت کے مطابق 22 جون 2026 کو پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی، جس میں حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کے اعلیٰ سطحی نمائندگان شامل ہیں، نے بلوچستان میں آئی ایف آر اے پی کے تحت مختلف شعبوں کی مالی ضروریات کا ازسرنو جائزہ لیا۔ کمیٹی نے ان شعبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر فنانسنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا جو 2022 کے سیلاب سے متاثر ہوئے تھے لیکن پہلے مرحلے میں مطلوبہ مالی معاونت حاصل نہیں کر سکے۔
ان شعبوں میں تعلیم، صحت، آبپاشی، سڑکیں و پل، اسکل ڈویلپمنٹ، نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ اور ذریعہ معاش سمیت دیگر اہم شعبے شامل ہیں حکومت نے واضح کیا ہے کہ پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا فیصلہ ہاؤسنگ سے فنڈز واپس لینے یا بلوچستان سے مالی وسائل منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ آئی ایف آر اے پی کے اندر ہی ان منظور شدہ شعبوں کی مالی ضروریات پوری کرنے سے متعلق تھا جو پہلے مرحلے میں فنانسنگ سے محروم یا کم فنانسنگ حاصل کر سکے۔ مذکورہ تمام شعبے ایکنک سے منظور شدہ آئی ایف آر اے پی کا لازمی حصہ ہیں، اس لیے کسی ایک منظور شدہ شعبے کے لیے وسائل کی فراہمی کو بلوچستان سے فنڈز کی منتقلی قرار دینا درست نہیں۔ بلوچستان کے لیے مختص وسائل صوبے کی بحالی، تعمیر و ترقی پر ہی استعمال کیے جا رہے ہیں اور آئی ایف آر اے پی کے تحت جامع بحالی کے دائرہ کار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔
منصوبے کی کارکردگی اور عملدرآمد سے متعلق سامنے آنے والے سوالات کے پیش نظر پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے اعلیٰ سطحی آزادانہ انکوائری کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے منصوبے کی کارکردگی، عملدرآمد اور متعلقہ امور کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے گا اور جہاں ضروری ہوا ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا حکومت نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی ہر سطح پر معاونت یقینی بنائی جائے گی۔
جن اہل مستفیدین کو ہاؤسنگ گرانٹ کی رقوم منتقل ہو چکی ہیں، ان کے گھروں کی تعمیر منظور شدہ تعمیراتی رہنما اصولوں کے مطابق مکمل کرانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
ساتھ ہی ہاؤسنگ کے علاوہ بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، آبپاشی، پانی و نکاسی آب، سڑکوں و پلوں، ذریعہ معاش، ہنرمندی اور نوجوانوں کے لیے مواقع سمیت دیگر متاثرہ شعبوں میں بحالی کا عمل بھی جاری رہے گا حکومت کے مطابق آئی ایف آر اے پی کا بنیادی مقصد صرف سیلاب متاثرین کے لیے مکانات کی تعمیر نہیں بلکہ بلوچستان میں جامع، پائیدار اور موسمیاتی طور پر لچکدار بحالی کو یقینی بنانا ہے تاکہ صوبہ مستقبل کی قدرتی آفات کے اثرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہاؤسنگ یا بلوچستان سے فنڈز کی منتقلی سے متعلق تاثر دستیاب منظور شدہ مالی اور پروگراماتی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، آئی ایف آر اے پی کے تحت تمام منظور شدہ شعبوں کا دائرہ کار برقرار ہے اور بلوچستان کی جامع بحالی و ترقی کے مقصد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔









