آبنائے ہرمز کھلی ہے یا ابھی کھلنی ہے؟ امریکی سول اور فوجی قیادت کے متضاد بیانات نے الجھن بڑھا دی

42

آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال پر امریکی حکام کے بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف امریکی فوج کہہ رہی ہے کہ بحری راستہ مکمل طور پر کھلا ہے تو دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار مستقبل میں اسے دوبارہ کھولنے کے معاہدے کی امید ظاہر کر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کی مبینہ دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے اور گزشتہ تین ماہ کے دوران امریکی افواج نے ایک ہزار سے زائد تجارتی جہازوں کو بحفاظت اس راستے سے گزرنے میں معاونت فراہم کی ہے۔

سینٹکام کے مطابق بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں تجارتی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ایسا معاہدہ طے پانے کا امکان ہے جس کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں اور توقع ہے کہ جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں