بلوچستان میں لوگوں کو مخبراور سہولت کار قرار دیکرقتل کیا جارہاہے ،مولانا ہدایت

34

امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آج مزید چھ افراد کی لاشیں ملنے کا افسوسناک واقعہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔

کبھی لوگوں کو “مخبر”اور کبھی”سہولت کار” قرار دے کر قتل کیا جا رہا ہیں جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائیماورائے عدالت قتل ہرگز قابلِ قبول نہیں۔

حکومت فوری طور پر ان واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک بار پھر بے گناہ افراد کا قتل، لاتعلق شہریوں کا اغوا، تاوان کے لیے لوگوں کو لاپتہ کرنا، ٹرکوں اور دیگر املاک کو نذرِ آتش کرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں شدید کوتاہی برتی جا رہی ہے۔امن و امان کے قیام کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے گئیمگر اس کے باوجود بلوچستان کے عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جس کے باعث صوبے میں بدامنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

بلوچستان کے عوام خوف و بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ حکمران صرف بیانات اور طفلِ تسلیوں سے کام لے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے ضلع کیچ میں مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ محنت کشوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک، انسانیت سوز اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

حکومت فوری طور پر واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرے۔ اللہ تعالی شہدا کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔انہوں نے بارکھان میں ڈی ایس پی مرید خان بگٹی کی شہادت پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ قابلِ مذمت ہے۔

حکومت ذمہ دار عناصر کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دے۔ اللہ تعالی شہید کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت، تشدد اور ماورائے قانون اقدامات میں نہیں بلکہ آئین،قانون،انصاف اور عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی میں ہے۔ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر امن کے قیام، شہریوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے تاکہ صوبے میں پائیدار امن قائم ہو اور عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں