وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مفاہمتی کوششیں کامیاب ہوگئیں، حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوگئے، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان تحریری معاہدہ طے پا گیا۔
معاہدے کے تحت شہدائے زیارت کے لواحقین کے مطالبات پر عملدرآمد اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے شہدائے زیارت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا۔
معاہدے کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر اپوزیشن جماعتوں اور شہداء کے لواحقین کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، جبکہ شہری علاقوں میں پولیس فورس کی استعداد، افرادی قوت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ شہدائے زیارت کو مروجہ پالیسی کے تحت شہید قرار دیا جائے گا، جبکہ لواحقین کی کفالت، بچوں کی تعلیم اور مالی معاوضہ بھی حکومتی پالیسی کے مطابق فراہم کیا جائے گا۔ شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف سرکاری عمارات بھی ان کے نام سے منسوب کی جائیں گی۔
ریونیو سے متعلق عوامی تحفظات کے ازالے کے لیے وزیر ریونیو کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں متعلقہ سرکاری افسران اور علاقے کے معتبرین شامل ہوں گے۔
مذاکرات میں حکومتی کمیٹی کی سربراہی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کی۔ کمیٹی میں صوبائی وزراء ضیاء اللہ لانگو، سلیم خان کھوسہ، میر عاصم کرد گیلو، سینیٹر منظور کاکڑ، بلال کاکڑ اور کمشنر کوئٹہ شاہ زیب کاکڑ بھی شامل تھے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہداء ہمیں بے حد عزیز ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کی ہر ممکن دیکھ بھال حکومت بلوچستان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عظیم قربانیوں کو پوری قوم خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔









