ضلع زیارت کے ڈی پی او، ڈی سی اور دیگر متعلقہ اہلکاروں نے ایک منظم سازش کے تحت پینتالیس اہلکاروں کو ایک ویران مقام پر بھیجا ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

15

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کوئلہ پاٹک پر مانگی، زیارت فیز تھری کے شہدا کے لواحقین کے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ضلع زیارت کے ڈی پی او، ڈی سی اور دیگر متعلقہ اہلکاروں نے ایک منظم سازش کے تحت پینتالیس اہلکاروں کو ایک ویران مقام پر بھیجا، جہاں صرف ایک ٹینکر موجود تھا اور وہاں کسی قسم کی سہولت یا حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان اہلکاروں کو مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جس کے نتیجے میں یہ المناک سانحہ پیش آیا۔نصراللہ خان زیرے نے کہا کہ اس سے قبل ہنہ اوڑک، شاھرگ ،ھرنای اور قلعہ عبداللہ کے شہدا کے واقعات بھی اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔

انھوں نے کہا حکومت نے خود ان مسلح جتھوں کو علاقے میں جگہ دی تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد پورے کر سکیں اور خطے کے وسائل پر قبضہ جما سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ اسی مقصد کے تحت منظور کیا گیا تاکہ علاقے کے قیمتی اور نایاب معدنی وسائل پر قبضہ کر کے مقامی آبادی کو ان کی سرزمین سے بے دخل کیا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ لواحقین کے مطالبات کہ واقعے کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے شفاف انکوائری کی جائے۔علاقے کے پہاڑوں اور آبادیوں کو مسلح دہشت گردوں سے پاک کیا جائے۔لیویز فورس کو بحال کیا جاے اورمضبوط اور فعال بنایا جائے۔

ایف سی کو علاقے سے ہٹایا جائے۔انہوں نے کہا کہ آج پورے صوبے میں، پشتون علاقے ہوں یا بلوچ علاقے، کسی کا جان و مال محفوظ نہیں رہا۔ روزانہ دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، شاہراہیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں، تاجر عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ کنٹینرز اور بازر جلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی عملداری کہیں نظر نہیں آتی اور عوام ان واقعات سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

صوبائی صدر نے زور دے کر کہا کہ دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ ناگزیر ہے اور اس کے لیے فوری اور مثر اقدامات کیے جائیں۔نصراللہ خان زیرے نے عوام سے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی تحریک کو وسعت دے دی گئی ہے۔ آج پشین، قلعہ سیف اللہ، لورالائی اور زیارت میں احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل میں اس تحریک کو مزید توسیع دی جائے گی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کوئٹہ، کوئلہ پارک میں جاری عظیم الشان دھرنے میں ہر صورت شرکت کر کے شہدا کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں