شہداء زیارت کے اہل خانہ کا نعشوں کے ہمراہ کوئٹہ اور زیارت میں احتجاجی دھرنے جاری

13

زیارت کے علاقے مانگی میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس شہداء کے اہل خانہ کا نعشوں کے ہمراہ دو مقامات پر احتجاجی دھرنے بدستور جاری ہیں۔

ایک دھرنا ضلع زیارت میں ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) آفس کے سامنے جاری ہے، جبکہ دوسرا دھرنا کوئٹہ میں شہدائے زیارت کی میتوں کے ہمراہ جاری ہے۔ شرکاء دھرنے کا کہنا ہے کہ دونوں دھرنے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ہمارے تمام جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور شہداء کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔

دھرنا کمیٹی نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا کے اس پشتون بیلٹ زیارت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پانچ سال قبل، 2021 میں بھی اہلِ زیارت نے اپنے شہداء کی میتوں کے ہمراہ مسلسل 11 دن تاریخی دھرنا دیا تھا اور شہداء کی میتیں پوری پشتون قوم کے حوالے کی تھیں آج بھی شہدائے زیارت کی میتیں پشتون قوم کی امانت ہیں ہم روزِ اول سے اسی مؤقف پر قائم ہیں کہ ان شہداء کے بارے میں جو بھی فیصلہ پشتون قوم کرے گی۔

وہی ہمارا فیصلہ ہوگا، کیونکہ ہم نے یہ میتیں ذاتی نہیں بلکہ قومی امانت سمجھ کر پوری پشتون قوم کے سپرد کی ہیں۔ہماری نیت اور خواہش صرف یہ ہے کہ یہ ہمارے آخری شہداء ہوں ہم مزید کسی پشتون کو ظلم، دہشت گردی اور مسلسل خونریزی کا نشانہ بنتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

پشتونوں کی جانوں کا مسلسل ضیاع اور نسل کشی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے انصاف، تحفظ اور اپنے جائز مطالبات کی منظوری تک زیارت اور کوئٹہ، دونوں مقامات پر دھرنے ہر صورت جاری رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں