میں بی ایل اے اور دیگر کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوں ، سردارکھیتران

25

سابق صوبائی وزیر و رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمن کھتیران نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں علیحدگی پسند تنظیموں کو بھتہ دینے یا اس حوالے سے تحقیقات کے باعث وزارت سے ہٹایا گیا،

اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے تو ان پر براہِ راست ایسا کوئی الزام عائد نہیں کیا، تاہم میڈیا میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض عناصر وزیراعلیٰ بلوچستان کی ناکام کارکردگی پر پردہ ڈالنے اور عوامی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے ان کیخلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ میںنے ہمیشہ بی ایل اے اور دیگر کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں کی مذمت کی ہے، خصوصاً پنجاب سے تعلق رکھنے والے بے گناہ افراد کے قتل عام کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی، انہوں نے کہا کہ وہ ان تنظیموں کو بارہا چیلنج کر چکے ہیں کہ اگر لڑنا ہے تو ان کا مقابلہ کریں، نہتے پنجابی مسافروں کو بسوں اور ٹرکوں سے اتار کر قتل کرنا بزدلانہ عمل ہے۔

انہوں نے کہامیں بی ایل اے اور دیگر کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوں میں نہ کبھی بھتہ دے سکتا ہوں اور نہ ہی کوئی مجھ سے بھتہ لینے کی جرات کر سکتا ہے، وطن عزیز کے لیے اپنی جان قربان کر سکتا ہوں،

لیکن دہشت گردوں کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکاؤں گا۔سابق صوبائی وزیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کارکردگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ انہیں عہدے سے ہٹایا جائے یا صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2013 میں ہزارہ برادری کے قتل عام کے بعد اْس وقت کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کے دوران گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، لہٰذا موجودہ حالات میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو یہ پیغام ملے کہ ناقص کارکردگی کے حامل حکمرانوں کا احتساب کیا جاتا ہے۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے وڈھ میں شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر حملے،

زیارت کے سانحے اور بلوچستان کے دیگر دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا اور ان واقعات کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور بلوچستان میں دہشت گردی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ہر محاذ پر جدوجہد جاری رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں