بلوچستان کے عوام بدامنی ، بدعنوانی اور لاپتہ افراد کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، مولانا ہدایت

21

امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام بدامنی،بدعنوانی،لاپتہ افراد،بے روزگاری، غربت اوربنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

صوبے کے عوام کومعیاری صحت اور تعلیم کی سہولیات میسرنہیں،شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، شہر ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں جبکہ عوام، مسافر، تاجر اور ٹرانسپورٹرز عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ غربت اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے حقیقی ووٹوں سے منتخب ہونے والے حقیقی نمائندوں کے بجائے فارم47 کے ذریعے ایسے افراد مسلط کیے گئے ہیں۔

جو عوام کے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ریموٹ کنٹرول پر چل رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر میں مختلف وفود سے ملاقاتوں اور گفتگو کے دوران کیاانہوں نے کہا کہ بارڈر بندش کے بعد شاہراہوں کی مسلسل بندش،ٹرکوں کو نذر آتش کرنے،مسافر کوچز پر حملوں اور بدامنی کے دیگر واقعات نے بلوچستان کے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔

حکومت واداروں کے دعووں کے برعکس حقیقی صورتحال یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز،وزراء￿ ،سرمایہ کار،تاجر،ٹرانسپورٹر اور عام شہری، کوئی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ طاقت، جبر، زور زبردستی اور فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں۔اسی طرح سرکاری املاک، سیکورٹی فورسزیا ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنانے اور جلانے سے بھی بلوچستان کے مسائل حل ہوں گے نہ بلوچستان آزادیوسکتاہے۔

پائیدار امن ترقی صرف انصاف،عوام کے آئینی و قانونی حقوق کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، بارڈرز کی بحالی، تجارت کے فروغ اور عوام کو فیصلہ سازی میں شریک کرنے سے قائم ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کا سنگین مسئلہ موجود ہے۔

ماورائے آئین و قانون لوگوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے، متاثرہ خاندان انصاف کے لیے دربدر ہیں، عدالتوں سے بروقت انصاف نہیں مل رہا جبکہ میڈیا بھی عوام کے حقیقی مسائل اور حقائق کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

روزگار کی تقسیم میں میرٹ کے بجائے اقربا پروری، سفارش اور کرپشن کا راج ہے، جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحلی وسائل،معدنیات،گیس، بندرگاہوں اور دیگر قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے۔

اگر مقامی نوجوانوں کو روزگار، تعلیم،صحت اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، بارڈرز کو قانونی طریقہ کار کے تحت کھولا جائے،لاپتہ افراد کومنظرعام پرلایاجائے،تجارت کو آسان بنایا جائے اور عوام کے آئینی حقوق کا احترام کیا جائے تو نہ صرف بدامنی میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ پورے صوبے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے مسائل کو طاقت کے بجائے مذاکرات،آئین،قانون اور سیاسی بصیرت کے ذریعے حل کیا جائے، تمام لاپتہ افراد کے معاملے کو شفاف انداز میں نمٹایا جائے، شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے،بارڈر تجارت فوری بحال کی جائے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، صحت و تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان عوام کے حقوق،امن، انصاف،آئین کی بالادستی اور صوبے کی خوشحالی کے لیے اپنی پرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا واحد پائیدار حل عوام کا اعتماد بحال کرنے،انصاف کی فراہمی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور حقیقی جمہوری نظام کے قیام میں مضمر ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں